قومی اسمبلی میں کام کی جگہوں پر ہراسانی اور صنفی امتیاز کے خلاف قرارداد منظور

اسلام آباد: ایم این این

رکن قومی اسمبلی اور خواتین پارلیمانی کاکس کی سیکریٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے قومی اسمبلی میں کام کی جگہوں پر ہر قسم کی ہراسانی اور صنفی امتیاز کے خلاف قرارداد پیش کر دی۔

قرارداد میں پارلیمنٹ کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ہر فرد کے وقار، مساوات اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور کام کی جگہوں پر ہراسانی، دھمکی، تضحیک اور امتیازی سلوک کی ہر شکل کا خاتمہ کیا جائے۔

قرارداد کے مطابق کام کی جگہوں پر ہراسانی صرف جنسی نوعیت کے رویوں تک محدود نہیں بلکہ صنفی امتیاز، خوف زدہ کرنے، تذلیل، توہین آمیز سلوک، مخالفانہ رویے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں بھی سامنے آ سکتی ہے۔

قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ جنسی پیش قدمی یا مطالبہ نہ ہونے کی صورت میں بھی صنفی بنیاد پر ہراسانی اور امتیاز کی سنگینی کم نہیں ہوتی۔ ایسے تمام معاملات کو قانون کے دائرے میں یکساں سنجیدگی، انصاف اور جوابدہی کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں تحفظِ ہراسیتِ خواتین بمقامِ کار ایکٹ 2010 اور اس میں 2022 کی ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قانون صنفی بنیاد پر جنسی اور غیر جنسی امتیاز کو بھی ہراسانی کے قانونی دائرے میں تسلیم کرتا ہے۔

قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ قانون پر اس کی مکمل روح کے مطابق مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی فرد کو محض اس بنیاد پر قانونی تحفظ سے محروم نہ رکھا جائے کہ رپورٹ کی گئی ہراسانی غیر جنسی نوعیت کی ہے۔

قرارداد میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان بھر میں کام کی جگہوں کو ہراسانی، تذلیل، دھمکی اور صنفی امتیاز سے پاک بنایا جائے، کیونکہ باوقار اور محفوظ ماحول کوئی رعایت نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوات اور انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔

ایم این این

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں