یہ زیر نظر تصویر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (پی او ایف) واہ کی ہے جو کہ ایک پریس ریلیز کے ہمراہ اوفیشلی جاری کی گئ ہے۔ بظاہر روٹین کی تصویر اور روٹین کی پریس ریلیز محسوس ہوئ لیکن خادم کو تعجب اسوقت ہوا جب بھارتی میڈیا نے اس تصویر پر شور مچا دیا۔ اب آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا اس تصویر میں کیا ہے جس پر ہمسایوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہو گئ ہیں۔
جواب اس میز پر رکھے اس آکٹا کاپٹر طرز کے سیاہ ڈرون میں پوشیدہ ہے جو بظاہر ایک عام نمائشی ماڈل معلوم ہوتا ہے، مگر اس کی ساخت خود بہت کچھ بیان کر رہی ہے۔ اس کا لمبوترا مرکزی حصہ، جو کسی خاص پے لوڈ کے حساب سے ڈیزائن کیا گیا معلوم ہوتا ہے، اور آٹھ بلیڈز پر مشتمل پرواز کا نظام اسے محض نگرانی کے آلے سے کہیں آگے، ایک ممکنہ”لوئٹرنگ میونیشن “ یعنی فضا میں منڈلا کر ہدف پر اچانک جھپٹنے والے حملہ آور ڈرون کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔
چونکہ آئی ایس پی آر نے کسی مخصوص نام یا تکنیکی تفصیل کا اعلان نہیں کیا، اور خاموشی سے ایک تصویر اور پھرزبردست اینگل کی تصویر جاری کی ہے جس سے پیغام درست جگہ بروقت پہنچ گیا ہے۔ فقط یہ بیان کہ دو پروڈکشن فسیلیٹیز تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں نے اس بات کو مزید مضبوط بنا دیا ہے کہ پاکستان دفاعی طور پر بہت کچھ ایسا نیا اور چونکا دینے والا کر رہا ہے جسکا ہمسایوں کو رتی برابر اندازہ تک نہیں۔ اسی لیے آکٹا کوپٹر کی حتمی شناخت و کارگزاری میدان حرب میں کارکرگی دکھانے تک ممکنہ طور پر قیاس ہی رہے گی، مگر خطے کے موجودہ دفاعی رجحانات اسی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ امن کی چاہ رکھنے والا پاکستان دور جدید کی دفاعی ضرورتوں سے غافل نہیں ہے۔

تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری
دراصل یہ تمام کہانی مئی 2025 کے پاک بھارت تصادم سے جڑی ہے، جب دونوں ممالک نے پہلی بار میدانِ جنگ میں کھلے عام ڈرون اور لوئٹرنگ میونیشنز کا تبادلہ کیا۔ اس تصادم میں دندان شکن شکست و حزیمت نے بھارت کو اپنی دیسی ڈرون صنعت میں مزید بھاری سرمایہ کاری پر مجبور کیا۔ نگاسترا، شیش ناگ اور دیگر منصوبے اسی کا نتیجہ ہیں۔ انکی کارکردگی، کامیابی و ناکامی کا منصفانہ تجزیہ پھر کبھی کروں گا، لیکن یہاں یہ بتا دوں کہ انہی محرکات کے تناظر میں جب پاکستان کا سب سے بڑا دفاعی صنعتی کمپلیکس اپنی صفوں میں ایسی جدید ٹیکنالوجی کی جھلک عوامی سطح پر دکھاتا ہے تو یہ محض ایک تصویر نہیں رہتی، بلکہ خطے میں جاری خاموش عسکری دوڑ کا ایک اشاریہ بن جاتی ہے۔ بھارتی میڈیا کی بےچینی دراصل اسی خوف کی عکاسی ہے کہ آپریشن سندور کی بدترین ناکامی کے بعد ہزیمت مٹانے کے لیے جس تکنیکی برتری کا دعویٰ نئی دہلی نے کیا تھا، اسلام آباد اسی میدان میں تیزی سے نہ صرف قدم جما چکا ہے بلکہ جدید عسکری تکنیکات کے اس کھیل کا بادشاہ بن چکا ہے۔دوسری جانب بھارتی میڈیا مسلسل شور مچا رہا تھا کہ پاکستان نے ترکیہ سے ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کی ہے اور گراؤنڈ ٹیسٹنگ کر رہا ہے۔ اس ایک تصویر نے نہ صرف بھارتی پراپگنڈا کو زمین بوس کر دیا ہے بلکہ بغیر کچھ کہے خاموشی سے ثبوت دکھا کر بتا دیا ہے کہ”بھارتیو! اس کھیل میں آپ ابھی بچے ہو!“ اور ”جو تم حاصل کردہ سمجھ رہے ہو وہ تو ہم نے گھر میں خود بنایا ہے۔ “



