اسلام آباد: ایم این این
فائر کریکر پلانٹ (سائنسی نام: Russelia equisetiformis) اپنی دلکش خوبصورتی، شوخ سرخ اور نارنجی نالی دار پھولوں اور کم دیکھ بھال کی وجہ سے باغبانی کے شوقین افراد میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اس کی باریک اور نیچے کو جھکتی شاخیں آتش بازی کا منظر پیش کرتی ہیں، جس کے باعث یہ باغات، لان، بالکونیوں اور گملوں کی دلکشی میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق فائر کریکر پلانٹ پاکستان کے گرم موسم اور تیز دھوپ میں بھی بہترین نشوونما پاتا ہے، جبکہ اسے کم پانی اور معمولی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے مصروف افراد کے لیے بھی یہ ایک موزوں انتخاب ہے۔
یہ پودا تتلیوں، شہد کی مکھیوں اور دیگر رس خور پرندوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، جس سے باغ کا قدرتی حسن مزید نکھر جاتا ہے۔ لینڈ اسکیپنگ کے لیے بھی اسے بہترین تصور کیا جاتا ہے، خصوصاً لٹکنے والی ٹوکریوں اور گملوں میں اس کی آبشار نما شاخیں انتہائی دلکش منظر پیش کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پودے کو روزانہ کم از کم چار سے چھ گھنٹے براہِ راست دھوپ ملنی چاہیے، جبکہ پانی صرف اس وقت دیا جائے جب مٹی کی اوپری سطح خشک محسوس ہو۔ اچھی نکاسی والی مٹی اور وقتاً فوقتاً پرانی شاخوں کی کٹائی سے پودا مزید گھنا ہوتا ہے اور پھولوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔
فائر کریکر پلانٹ کو زمین کے ساتھ ساتھ گملوں اور ہینگنگ باسکٹس میں بھی آسانی سے اگایا جا سکتا ہے۔ اگر گھر کے اندر مناسب دھوپ والی جگہ موجود ہو تو اسے محدود مدت کے لیے انڈور بھی رکھا جا سکتا ہے، تاہم اس کی بہترین افزائش کھلی فضا میں ہوتی ہے۔
ماہرین باغبانی کے مطابق اگر آپ کم دیکھ بھال میں سال کے بیشتر حصے تک رنگ برنگے پھولوں سے سجا ہوا باغ چاہتے ہیں تو فائر کریکر پلانٹ ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔



