پمز آتشزدگی تحقیقاتی رپورٹ: 14 نومولودوں کی ہلاکت، نظامی و ادارہ جاتی ناکامی کا انکشاف

اسلام آباد (MNN)؛

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 26 اگست کو نرسری میں لگنے والی ہولناک آگ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے واقعے کو “نظامی اور ادارہ جاتی ناکامی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آتشزدگی کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ بجلی کا نقص تھا، جس کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے۔

سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کی 43 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق سانحہ کسی ایک حفاظتی اقدام کی ناکامی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ فائر سیفٹی، ہنگامی تیاری، انخلا، دیکھ بھال، انتظامی نگرانی، ضابطہ کاری اور پہلے سے معلوم خطرات کو دور نہ کرنے سمیت متعدد خامیوں نے مل کر اسے تباہ کن بنا دیا۔

26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ہوئے۔ سانحے کے بعد ہسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات پر شدید سوالات اٹھے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

بجلی کا نقص آگ لگنے کی ممکنہ وجہ

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نیشنل فرانزک ایجنسی کے مضبوط ترین تکنیکی شواہد اے سی یونٹ نمبر 2 سے منسلک بجلی کی سپلائی کیبل کو آگ لگنے کا سب سے ممکنہ مقام قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی سطح پر غیر معمولی برقی حرارت، جو زیادہ کرنٹ، ہائی ریزسٹنس کنکشن یا کسی اور مقامی خرابی کے باعث پیدا ہوسکتی تھی، نے ممکنہ طور پر تار کی انسولیشن کو ناکام بنایا اور قریب موجود آتش گیر مواد کو آگ لگا دی۔

تاہم کمیٹی نے واضح کیا کہ اصل تکنیکی خرابی اور اسے روکنے کے ذمہ دار فرد یا ادارے کا تعین الگ سے کرنا ہوگا۔

تحقیقات میں آتش زنی، تخریب کاری، متعدد مقامات سے آگ لگنے، آئیسکو کی بیرونی خرابی، آگ سے قبل آکسیجن لیکیج یا انکیوبیٹر/وارمر کو آگ کا ذریعہ قرار دینے کے شواہد نہیں ملے۔

پہلے سے موجود خطرات اور وارننگز نظر انداز ہوئیں

رپورٹ کے اہم ترین نکات میں پمز میں پہلے سے موجود معلوم مگر مکمل طور پر دور نہ کیے گئے حفاظتی خطرات بھی شامل ہیں۔

کمیٹی نے سی ڈی اے کی سابقہ مراسلت، وفاقی محتسب کی 2015 کی سفارشات، پمز کی جانب سے 2025 میں پرانے فائر سیفٹی انفراسٹرکچر کا اعتراف اور بالخصوص 6 جولائی 2026 کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کا حوالہ دیا۔

اس واقعے میں بھی فائر ڈیٹیکشن، الارم، برقی معائنہ، انخلا، فائر فائٹنگ آلات، تربیتی مشقوں اور ہنگامی منصوبہ بندی کی خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔

اس کے باوجود نرسری میں آگ لگنے سے قبل ان خطرات کو دور کرنے کے لیے کوئی جامع، مقررہ مدت پر مبنی اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اصلاحی پروگرام مکمل نہیں کیا گیا۔

کمیٹی نے قرار دیا کہ اے سی 2 کی مخصوص خرابی شاید پہلے سے قابل پیش گوئی نہ ہو، تاہم مؤثر فائر سیفٹی اور ہنگامی تیاری کی ضرورت واضح طور پر قابل پیش گوئی تھی۔

10 بستروں کی نرسری میں 15 انتہائی کمزور نومولود

تحقیقاتی رپورٹ نے نرسری کی انتہائی حساس صورتحال کی بھی نشاندہی کی۔

کمیٹی کے مطابق 10 بستروں کی نرسری میں 15 ایسے نومولود موجود تھے جو طبی اعتبار سے انتہائی کمزور اور خود سے باہر نکلنے کے قابل نہیں تھے۔ کئی بچے آکسیجن یا سانس کی مدد پر تھے۔

واقعے کے وقت صرف دو ڈاکٹر اور دو نرسیں فوری طور پر دستیاب تھیں، جبکہ محفوظ انخلا کے وسائل بھی محدود تھے۔

کمیٹی کے مطابق نرسری کے لیے ایسا منظور شدہ، تربیت یافتہ اور باقاعدگی سے مشق شدہ فائر اور نیونٹل ایمرجنسی انخلا کا طریقہ کار ثابت نہیں کیا جاسکا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ متاثرہ حصے میں خودکار دھویں کا پتہ لگانے، فائر الارم یا اسپرنکلر کا فعال نظام موجود ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ آتش گیر مواد اور آکسیجن سے بھرپور ماحول نے آگ اور دھویں کو مزید شدت دی۔

فرنٹ لائن عملے کو نومولود چھوڑنے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا

کمیٹی نے فرنٹ لائن عملے کے کردار اور ادارہ جاتی ناکامی کو الگ الگ دیکھا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ میں کہا گیا کہ شواہد کی بنیاد پر یہ عمومی الزام درست نہیں کہ فرنٹ لائن عملہ نومولودوں کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

چارج نرس نسرین اختر، سیکیورٹی گارڈ ماریا سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند ہی لمحوں میں کارروائی کی، جبکہ دیگر اہلکاروں نے بھی ایسے حالات میں فوری اور بہادری سے کام کیا جو چند منٹوں میں ناقابل برداشت ہوگئے تھے۔

کمیٹی نے قرار دیا کہ جن اہلکاروں کی جانب سے بچاؤ کی کوششیں ثابت ہوچکی ہیں، انہیں محض اس لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے کہ سانحہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوا۔

ہنگامی کارروائی اور ادارہ جاتی نظام میں سنگین خامیاں

رپورٹ کے مطابق فرنٹ لائن عملے نے تقریباً 6:38 بجے صبح فوری کارروائی شروع کی، بیرونی اداروں کو 6:54 بجے اطلاع دی گئی جبکہ آپریشنل ایمرجنسی ٹیم تقریباً 7:01 بجے موقع پر پہنچی۔

کمیٹی کے مطابق اصل تشویش CES کی کارروائی سے زیادہ آگ نظر آنے اور بیرونی مدد طلب کیے جانے کے درمیان موجود وقفے سے متعلق تھی۔

پمز فوری طور پر آگ کی نشاندہی کو الارم، بیرونی اطلاع، انخلا، خطرے کو الگ کرنے، راستہ محفوظ بنانے اور مربوط ریسکیو آپریشن میں تبدیل کرنے کے لیے مؤثر اور آزمودہ Incident Command System ثابت نہیں کرسکا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ CES نے بعض راستوں کے بند یا رکاوٹ کا شکار ہونے کی نشاندہی کی، جو ہنگامی انخلا کے حوالے سے ایک سنگین ادارہ جاتی مسئلہ تھا، اگرچہ سی سی ٹی وی میں نظر آنے والے مخصوص دروازے کو نومولودوں کی ہلاکتوں کی براہ راست وجہ قرار نہیں دیا گیا۔

اصل ذمہ داری ادارہ جاتی سطح پر

تحقیقاتی کمیٹی نے پمز اور اس کی اعلیٰ انتظامیہ کو معلوم خطرات، سابقہ وارننگز اور تفویض کردہ ذمہ داریوں کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل نہ کرنے کا بنیادی ادارہ جاتی ذمہ دار قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق بنیادی ناکامی ایک مربوط مریضوں کے حفاظتی نظام کی عدم موجودگی تھی، جس کے باعث کلینیکل، انجینئرنگ، سیکیورٹی، انتظامی، کنٹریکٹر اور ریگولیٹری شعبوں میں خطرات بٹے رہے۔

نتیجتاً خامیوں کی مکمل اصلاح نہ ہوسکی، ہنگامی تیاری کمزور رہی اور سانحے کے وقت ردعمل بڑی حد تک غیر مربوط ہوگیا۔

کمیٹی نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ نئے جائیکا فنڈڈ ہسپتال کی دستیابی اور بتدریج فعال ہونے کے باوجود نرسری کو پرانی عمارت میں کیوں برقرار رکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے حق میں کوئی مناسب دستاویزی رسک اسیسمنٹ، جواز یا مقررہ مدت پر مبنی منتقلی کا منصوبہ موجود نہیں تھا، جسے کمیٹی نے بادی النظر میں انتظامی معاملہ قرار دیا۔

کسی نامزد فرد کا مجرمانہ قصور فی الحال ثابت نہیں

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر کسی نامزد فرد کے خلاف فی الحال مجرمانہ ذمہ داری ثابت نہیں ہوئی۔

تاہم کمیٹی نے چار اہم معاملات میں مزید توجہ مرکوز تحقیقات کی سفارش کی:

اے سی 2 کی برقی تنصیب یا دیکھ بھال میں ممکنہ مجرمانہ غفلت؛
لازمی ہنگامی راستے میں ممکنہ رکاوٹ؛
مخصوص سابقہ وارننگز کے باوجود کارروائی نہ کرنا؛
بیرونی ہنگامی امداد طلب کرنے میں ثابت شدہ تاخیر۔

کمیٹی نے کہا کہ مجرمانہ ذمہ داری کا تعین متعلقہ فرد کی ذمہ داری، خطرے سے آگاہی یا اس کی پیش بینی، کارروائی کا اختیار، غفلت، ناکام حفاظتی اقدام اور واقعے میں اس کے کردار کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ میں ایسے افسران کے خلاف محکمانہ اور انتظامی کارروائی کی بھی سفارش کی گئی جہاں غفلت، نااہلی، بدانتظامی، نگرانی میں ناکامی یا تفویض کردہ حفاظتی ذمہ داریوں کی عدم تکمیل کے شواہد موجود ہوں۔

انجینئرنگ اور ریگولیٹری ادارے بھی زیرِ سوال

رپورٹ میں کہا گیا کہ انجینئرنگ، الیکٹریکل اور HVAC نظام سے متعلق ذمہ داری تکنیکی اعتبار سے انتہائی اہم ہے، تاہم اسے متعلقہ افراد تک انفرادی سطح پر پہنچانا ہوگا۔

کمیٹی کے مطابق ذمہ داری ان افراد تک پہنچائی جانی چاہیے جنہوں نے متعلقہ برقی سرکٹ کو ڈیزائن، نصب، تبدیل، معائنہ، برقرار، نگرانی یا تصدیق کیا۔

وزارت صحت، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، سی ڈی اے اور کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ ذمہ داری زیادہ تر ادارہ جاتی، نگران اور ریگولیٹری سطح پر بنتی ہے، نہ کہ فی الحال کسی مخصوص فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کے طور پر۔

رپورٹ نے نگرانی کے نظام کو منتشر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہم حفاظتی خطرات کو مکمل طور پر دور کیے جانے کی مؤثر تصدیق نہیں کی گئی۔

فائر سیفٹی نظام کی مکمل اصلاح کی سفارش

تحقیقاتی کمیٹی نے پمز میں فوری فائر، لائف سیفٹی اور برقی نظام کے آڈٹ کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں درج اہم سفارشات میں:

نومولودوں کے لیے خصوصی انخلا کا SOP؛
باقاعدہ اور عملی فائر ڈرلز؛
براہ راست ہنگامی اطلاع کا نظام؛
مؤثر Incident Command System؛
برقی نظام کی حفاظتی دیکھ بھال؛
پیشہ ورانہ اور میرٹ پر مبنی ہسپتال انتظامیہ؛
مضبوط ریگولیٹری نگرانی؛
اور ہر حفاظتی خامی کی ذمہ داری، مدت، وسائل اور آزادانہ تصدیق کے ساتھ نگرانی شامل ہے۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ کسی حفاظتی اقدام کو صرف اس بنیاد پر مکمل نہیں سمجھا جاسکتا کہ اسے منظور کرلیا گیا ہے یا اس پر کام جاری ہے۔ حفاظتی اقدام اس وقت مکمل تصور ہوگا جب خطرہ عملی طور پر ختم کردیا جائے اور اس کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی ہوجائے۔

متاثرہ خاندانوں کے لیے سپورٹ سیل کی سفارش

کمیٹی نے متاثرہ خاندانوں کے لیے Family Support and Liaison Cell قائم کرنے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ انہیں نفسیاتی اور سوگ کے دوران معاونت فراہم کی جاسکے۔

اس کے علاوہ زندہ بچ جانے والے نومولود کی طویل مدتی طبی نگرانی، قانونی معاوضے یا امداد کی شفاف اور فوری فراہمی، مستقل Hospital Safety and Vigilance Committee اور ایک آزاد Safety and Governance Oversight Board کے قیام کی سفارش کی گئی ہے۔

کمیٹی نے مزید کہا کہ نرسری، NICU، PICU، ICU، HDU اور آپریشن تھیٹرز جیسے حساس شعبے صرف اس صورت میں فعال رہنے چاہئیں جب وہاں بنیادی لائف سیفٹی انتظامات عملی طور پر فعال اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ہوں۔

پینل نے پرانی عمارتوں میں موجود اہم طبی شعبوں کو جہاں ممکن ہو مناسب اور مقصد کے لیے تعمیر شدہ نئی عمارتوں میں منتقل کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

پس منظر: 26 اگست کو پمز میں ہونے والی آتشزدگی میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے تھے؛ ابتدائی رپورٹس میں اے سی سے متعلق خرابی کا ذکر سامنے آیا تھا اور حکومت نے فوری تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ 

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں