اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا

کراچی (ایم این این)؛ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر کے روز کلیدی پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلہ 10 رکنی کمیٹی کے 7 ارکان کی اکثریت سے کیا گیا۔

شرحِ سود برقرار رکھنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سپلائی چین میں رکاوٹوں اور مہنگائی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کی حالیہ شدت کے باعث عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں مسلسل رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔

تاہم کمیٹی کے مطابق پاکستان کے حالیہ معاشی اعداد و شمار مجموعی طور پر اس کی توقعات کے مطابق رہے۔

اگست میں مہنگائی 11.1 فیصد ہوگئی

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق اگست میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئی، جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی، تاہم بنیادی مہنگائی توقعات کے مقابلے میں قدرے کم رہی۔

کمیٹی نے کہا کہ ترسیلات زر میں مضبوط اضافے اور مالیاتی ذرائع سے زیادہ رقوم کی آمد کے باعث بیرونی کھاتے پر دباؤ قابو میں رہا۔

حالیہ تیز رفتار معاشی اشاریوں سے اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار بھی نمایاں ہوئے ہیں۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے قرار دیا کہ موجودہ 11.5 فیصد شرحِ سود درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی جانب لانے کے لیے موزوں ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث معاشی منظرنامے میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے

کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی اہم پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو B3 تک بہتر کرتے ہوئے آؤٹ لک مستحکم قرار دیا۔

پاکستان نے عالمی کیپٹل مارکیٹ میں دوبارہ رسائی حاصل کرتے ہوئے یورو بانڈز کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کیے، جس کے نتیجے میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے۔

تاہم ستمبر میں کاروباری اداروں اور صارفین دونوں کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں اضافہ ہوا جبکہ ان کے اعتماد میں کمی دیکھی گئی۔

کمیٹی کے مطابق جون میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 3.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد مالی سال 2026 میں مجموعی شرح نمو تقریباً 5 فیصد رہی۔

مالیاتی استحکام میں بہتری

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران مالیاتی استحکام بجٹ میں مقررہ ہدف سے بہتر رہا، جبکہ مالی سال 2027 کے جولائی اور اگست کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں مجموعی طور پر مقررہ ہدف کے مطابق رہیں۔

اسٹیٹ بینک نے حکومت کو 1.9 کھرب روپے کا منافع منتقل کیا، جو بجٹ میں مختص 1.4 کھرب روپے کی رقم سے زیادہ ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ عالمی معاشی حالات میں مشکلات کے باعث دنیا بھر کے مرکزی بینک زیادہ محتاط پالیسی اختیار کررہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے معاشی خطرات میں اضافہ

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک قیمتوں میں استحکام کے حصول کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت آنے والے معاشی اعداد و شمار کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گا۔

کمیٹی کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور موسم سے متعلق رکاوٹوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے پاکستان کے معاشی منظرنامے کو مزید خطرات لاحق ہیں۔

اس تناظر میں کمیٹی نے محتاط مالیاتی اور زری پالیسی کے امتزاج اور بیرونی و رسدی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے معاشی حفاظتی ذخائر مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

شرحِ سود میں نمایاں کمی کا سفر

اسٹیٹ بینک کے فیصلے سے قبل بینکاروں کی اکثریت نے شرحِ سود برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی تھی، تاہم بعض ماہرین کا خیال تھا کہ عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین کے خطرات کے باعث شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے اپریل میں شرحِ سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرنے کے بعد اسے موجودہ سطح پر برقرار رکھا ہے۔ یہ تقریباً تین سال میں شرحِ سود میں پہلا اضافہ تھا۔

اس سے قبل دسمبر 2025 میں اچانک 50 بیسس پوائنٹس کمی کے بعد جنوری اور مارچ میں شرحِ سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھی گئی تھی۔

وسط 2024 سے اب تک اسٹیٹ بینک مجموعی طور پر پالیسی ریٹ میں 1,050 بیسس پوائنٹس کی کمی کرچکا ہے۔ جون 2023 میں شرحِ سود ریکارڈ 22 فیصد تک پہنچ گئی تھی، تاہم مہنگائی میں نمایاں کمی کے بعد اس میں بتدریج کمی کی گئی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں