اسلام آباد: ایم این این
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ نقصانات اور آن لائن خطرات سے تحفظ فراہم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سمیت مختلف وفاقی اداروں نے اپنے جوابات عدالت میں جمع کرا دیے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اپنے جواب میں سوشل میڈیا کے مؤثر کنٹرول کے حوالے سے قانونی اور تکنیکی مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے لازمی عمر کی تصدیق کا کوئی جامع نظام موجود نہیں، جبکہ اتھارٹی کے پاس لازمی عمر کی تصدیق نافذ کرنے کا اختیار بھی نہیں۔
پی ٹی اے نے جدید انکرپشن کے باعث مخصوص سوشل میڈیا مواد کی مؤثر نگرانی اور بلاکنگ کو بھی مشکل قرار دیا ہے۔ اتھارٹی کے مؤقف کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کی ضرورت موجود ہے، تاہم اس حوالے سے قانونی اختیارات اور تکنیکی صلاحیتوں سے متعلق مختلف چیلنجز درپیش ہیں۔
سماعت کے دوران وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ داخلہ اور نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ کی جانب سے بھی اپنے جوابات عدالت میں جمع کرائے گئے۔
عدالت نے دیگر فریقین، جن میں پیمرا بھی شامل ہے، کو جواب جمع کرانے کے لیے 20 دن کی مہلت دے دی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ معاملہ نابالغ بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ہے اور اس معاملے میں سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔
چیف جسٹس نے قانون افسران کو ہدایت کی کہ دیگر تمام جواب دہندگان کے جوابات بھی جلد از جلد عدالت میں جمع کرانا یقینی بنایا جائے۔
عدالت نے بچوں کو آن لائن خطرات سے تحفظ کے معاملے میں تمام متعلقہ اداروں سے بروقت جواب طلب کرتے ہوئے سنجیدگی اور تیزی سے کارروائی کی ہدایت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے محمد جلال حیدر ایڈووکیٹ اور یحییٰ فرید ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور بچوں کے آن لائن تحفظ کا معاملہ عدالت کے سامنے پیش کیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی آئندہ کارروائی میں مختلف وفاقی اداروں کے جمع کرائے گئے جوابات اور بچوں کے سوشل میڈیا تحفظ سے متعلق قانونی و انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔



