صوبے میں ترقیاتی فنڈز کی جے یو آئی کو بندر بانٹ ور اپوزیشن لیڈر کے کردار پر بھی سوالات اٹھنے لگے
اسلام آباد: ایم این این
وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام کے ارکان کو مبینہ طور پر اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی اور اپوزیشن کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے سخت مذمتی مؤقف سامنے آنے کے بجائے ان کی تعریف نے کئی سوالات کو جنم دیدیا۔ مولانا کے پاک فوج اور شہداء سے متعلق متنازعہ بیان نےسیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اور وزیراعظم اعلیٰ کے طرز سیاست کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز اور دیگر مراعات کی مبینہ فراہمی کے معاملے پر شفافیت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ان فنڈز کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہے اور عوامی نمائندوں کو وسائل کی فراہمی کے لیے کون سے اصول اپنائے جا رہے ہیں۔
اس معاملے میں بلوچستان اسمبلی میں جے یو آئی کے اپوزیشن لیڈر یونس زہری کے کردار کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ آیا وہ حکومت کے خلاف مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے یا ان پر عائد دوستانہ اپوزیشن کے الزامات برقرار رہیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ترقیاتی فنڈز کی تقسیم، حکومتی فیصلوں اور اپوزیشن کے کردار سے متعلق معاملات پر شفافیت ضروری ہے تاکہ عوام کے سامنے حقائق آ سکیں۔
تاہم، ترقیاتی فنڈز اور مراعات سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ابھی ضروری ہے۔



