بلوچستان کے سینیٹ میں نمائندوں پر سوالات،بعض سینیٹرز کے غیر آباد ہونے کا انکشاف۔ ایوان بالا میں صرف چھ بلوچ۔

سینیٹ کے آئندہ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کے خدشات پھر سے بڑھنے لگے۔

اسلام آباد: ایم این این

اسلام آباد: سینیٹ کے نصف ارکان کی مدتِ رکنیت مکمل ہونے سے قبل ہی بلوچستان کی نمائندگی کا معاملہ زیرِ بحث آنے لگا ہے۔ بلوچستان کی نشستوں پر منتخب سینیٹرز کے علاقائی تعلق اور سیاسی جماعتوں سے وابستگی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کے خدشات بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔

سینیٹ آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق بلوچستان کی نشستوں پر 23 سینیٹرز ہیں، جن میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور آزاد ارکان شامل ہیں۔ ان جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ ن، بلوچستان عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی شامل ہیں۔

بلوچستان کی نمائندگی کے حوالے سے بحث اس وقت اہمیت اختیار کر گئی ہے جب بعض سینیٹرز کے ذاتی یا آبائی تعلق کا معاملہ زیرِ بحث آیا ہے۔
بلوچستان کی نشستوں پر منتخب سینیٹرز میں عبدالقدوس بزنجو، عبدالشکور خان، مولانا عبدلواسع، آغا شاہزیب درانی، احمد خان، ایمل ولی خان، انوار الحق کاکڑ، اسد قاسم، بلال احمد خان، دنیش کمار، حسنیٰ بانو، جان محمد، کامران مرتضیٰ، منظور احمد، میر دوستین خان ڈومکی، محمد عبدالقادر، نسیمہ احسان، راحت جمالی، سعید احمد ہاشمی، ثمینہ ممتاز زہری، سردار الحاج محمد عمر گورگیج، سیدال خان اور عمر فاروق شامل ہیں۔

سیاسی وابستگی کے اعتبار سے عبدالقدوس بزنجو، بلال احمد خان، حسنیٰ بانو اور سردار الحاج محمد عمر گورگیج کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سے ہے۔ عبدالشکور خان، عبدلواسع، احمد خان اور کامران مرتضیٰ جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ ہیں۔

مسلم لیگ ن کی نمائندگی آغا شاہزیب درانی، میر دوستین خان ڈومکی، راحت جمالی اور سیدال خان ناصر کرتے ہیں، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی سے دنیش کمار، منظور احمد، سعید احمد ہاشمی اور ثمینہ ممتاز زہری سینیٹر منتخب ہوئے۔ ایمل ولی خان کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی اور جان محمد کا نیشنل پارٹی سے ہے۔ انوار الحق کاکڑ، اسد قاسم، محمد عبدالقادر اور نسیمہ احسان آزاد حیثیت میں سینیٹ کے رکن ہیں، جبکہ عمر فاروق بھی سرکاری فہرست میں عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ درج ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کی نشستوں پر منتخب بعض ارکان کے ذاتی یا آبائی تعلق کے حوالے سے بھی بحث کی جا رہی ہے۔ ان میں ایمل ولی خان کا تعلق چارسدہ سے بتایا جاتا ہے، جبکہ ثمینہ ممتاز زہری اور حسنیٰ بانو کے حوالے سے سندھ سے تعلق کا ذکر کیا جاتا ہے۔ سعید احمد ہاشمی، محمد عبدالقادر کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے ۔ بلوچستان کے سینیٹ میں اعدادوشمار پر نظر دوڑائی جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں بلوچ سینیٹرز کی تعداد زیادہ ہے لیکن جب سینیٹرز کے چناو کا معاملہ سامنے آتا ہے تو بلوچ سینیٹرز کی یہ تعداد 23 میں سے صرف 6 بنتی ہے ۔


سیاسی ماہرین کی رائے میں بلوچستان میں غیر آباد شخصیات پیسے کے بل بوتے پر صوبائی اسمبلی کے ارکان کو لالچ دیکر ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ اب جبکہ سینیٹ میں انتخابات کا مرحلہ چند ماہ کی دوری پر ہے ایسے میں ایک بار پھر سیاسی بیوپاری میدان میں کودنے کے لئے پر تول رہے ہیں اور بلوچستان اسمبلی کے ارکان کو خریدنے کے لئے پیسوں کی بوریوں کے منہ کھولیں گے لہذا اب صوبائی ارکان اسمبلی پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ صوبے کے عوام کا حق نمائندگی مبینہ خرید و فروخت کرنے والوں کے حوالے کرتے ہیں یا بلوچوں کی حقیقی نمائندوں کو سامنے لاتے ہیں تاہم بلوچوں کا احساس محرومی ختم کرنے کے لئے پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والا معاملہ ختم کرنا ہو گا۔

سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا سینیٹ انتخابات میں بلوچستان کے مقامی سیاسی نمائندوں کو ترجیح دی جاتی ہے یا مالی اثرورسوخ رکھنے والے امیدوار دوبارہ انتخابی عمل پر اثرانداز ہونگے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ سینیٹ انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ بلوچستان اسمبلی کے ارکان پر دباؤ، سیاسی جوڑ توڑ اور ووٹوں کی مبینہ خرید و فروخت کے خدشات ایک بار پھر زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے ارکان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سینیٹ انتخابات میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے صوبے کے مفادات، عوامی نمائندگی اور سیاسی شفافیت کو ترجیح دیں۔ انتخابی عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا صوبے میں احساسِ محرومی کے تدارک کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ بلوچستان کی سینیٹ میں حقیقی مقامی نمائندگی کو کس طرح یقینی بنایا جائے اور سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں مالی اثرورسوخ اور مبینہ ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کرتی ہیں۔

بلوچستان کے عوام کی مؤثر نمائندگی، صوبائی حقوق کے تحفظ اور سینیٹ کے انتخابی طریقہ کار میں شفافیت کے لیے سیاسی جماعتوں، صوبائی اسمبلی کے ارکان اور متعلقہ انتخابی اداروں کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں