اسلام آباد: ایم این این
وفاقی حکومت نے سول ایوارڈز عطا کرنے کے موجودہ نظام پر نظرثانی کا فیصلہ کرلیا۔
وزیراعظم کی ہدایت پر سول ایوارڈز کی نامزدگی، جانچ پڑتال اور انتخاب کے طریقہ کار کا جامع جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
سابق سیکریٹری محمود کھوسہ کو سول ایوارڈز جائزہ کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔
کمیٹی سول ایوارڈز کے قانونی فریم ورک، اہلیت کے معیار اور نامزدگی و انتخاب کے موجودہ طریقہ کار کا جائزہ لے گی۔
کمیٹی نظام میں موجود خامیوں اور ابہام کی نشاندہی کرے گی جبکہ ایوارڈز کے عمل کو زیادہ شفاف، معروضی اور میرٹ پر مبنی بنانے کے لیے تجاویز مرتب کرے گی۔
کمیٹی نامزدگی کے عمل کو سیاسی اور دیگر غیر ضروری اثر و رسوخ سے آزاد بنانے، قومی شمولیت اور مساوات یقینی بنانے کے لیے بھی سفارشات دے گی۔
اس کے علاوہ پیشہ ورانہ عمدگی کے تعین کے معیار، ادارہ جاتی فریم ورک اور سول ایوارڈز کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔کمیٹی سول ایوارڈز کے موجودہ نظام کو غیر صوابدیدی اور زیادہ معتبر بنانے کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
کمیٹی میں چیئرمین واپڈا سمیت کابینہ ڈویژن، پارلیمانی امور، ایف بی آر اور وزارتِ تجارت کے سیکریٹریز شامل ہیں۔
پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
سجاد قاضی اور جمال شاہ کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔
کابینہ ڈویژن نے سول ایوارڈز جائزہ کمیٹی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔



