قلات آپریشن میں 6 دہشت گرد ہلاک، 23 مغوی بازیاب

کوئٹہ/راولپنڈی (MNN):

سیکیورٹی فورسز نے قلات کے قریب چمن کراچی این-25 قومی شاہراہ پر دہشت گردوں کی جانب سے غیر قانونی چیک پوسٹ قائم کرکے شہریوں کو اغوا، بھتہ وصولی اور گاڑیاں چھیننے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 23 مغوی افراد کو بازیاب اور 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، آئی ایس پی آر نے اتوار کو بتایا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن 18 اور 19 ستمبر کی درمیانی شب کیا گیا، جب فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں نے قلات کے قریب چمن کراچی این-25 شاہراہ پر لوگوں کی آمدورفت متاثر کرنے کی کوشش کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد شاہراہ پر ایک عارضی چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے جہاں سے شہریوں کو تاوان کے لیے اغوا کرنے، بھتہ وصول کرنے اور گاڑیاں چھیننے کا منصوبہ تھا۔

سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

حکام کے مطابق حکومت نے بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے لیے فتنۃ الہندوستان کی اصطلاح استعمال کی ہے اور ان گروہوں پر بیرونی معاونت حاصل ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے سے 23 مغوی افراد کو بازیاب کرایا گیا، جبکہ 6 ٹرک، 3 بسیں اور 2 گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا کہ کامیاب کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کے شہریوں کو نشانہ بنانے اور قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کے منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں ممکنہ طور پر موجود دیگر دہشت گردوں کے خاتمے اور مقامی آبادی سمیت اہم قومی شاہراہوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان کی منظوری سے جاری عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔

بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی معاونت اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشت گردی اور عسکریت پسندانہ حملوں میں اضافے کا سامنا رہا ہے۔ عالمی مانیٹرنگ ادارے آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (ACLED) کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران پاکستان میں پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل رہا ہے، جبکہ بلوچستان میں بھی سیکیورٹی فورسز، شہریوں، تنصیبات اور اہم شاہراہوں کو مختلف حملوں میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اگست میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی تھی۔

بلوچستان میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران دہشت گردوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کی گئی ہیں۔ گزشتہ دنوں صوبے میں 7 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی، جس کے بعد قلات کے قریب مزید کارروائی میں دہشت گرد مارے گئے۔

چند روز قبل ضلع آواران کے علاقے بدرنگ میں بھی انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف کی گئی اور ہلاک افراد کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

قلات کے قریب تازہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سیکیورٹی ادارے اہم قومی شاہراہوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گرد گروہوں کو عارضی چیک پوسٹیں قائم کرکے شہریوں کی نقل و حرکت متاثر کرنے، اغوا برائے تاوان اور گاڑیوں کی چھینا جھپٹی سے روکنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں