بجٹ سے عوام کو سہولتیں ملیں گی،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اپوزیشن سے وفاقی بجٹ کی تعریفیں کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

اسلام آباد(ایم این این) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ پر ہر جانب سے مثبت گفتگو ہو رہی ہے، تاہم بجٹ پر تنقید اور احتجاج اپوزیشن کا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کیے گئے مثبت اقدامات کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا ہے، پچاس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جبکہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والوں کے لیے صرف ایک فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی پیشگوئیاں کی جا رہی تھیں اور شرطیں لگائی جا رہی تھیں، لیکن وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ریاست کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے سیاسی مفادات قربان کیے۔ تاریخ اس فیصلے کو یاد رکھے گی کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ “میں ریاست کو بچاؤں گا، مجھے سیاست کی کوئی پرواہ نہیں”۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے مشکل ترین معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا، پی ٹی آئی دور میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ چکی تھی، جبکہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آگئی ہے اور پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد کی سطح پر آ چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ترسیلاتِ زر نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں اور ان کا حجم 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر کی سطح پر موجود ہیں۔ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جن میں فری لانسرز کا 995 ملین ڈالر کا حصہ شامل ہے۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ مالی خسارہ 2022 میں جی ڈی پی کے 8 فیصد کے برابر تھا جو اب کم ہو کر 0.7 فیصد رہ گیا ہے۔

انہوں نے ایف بی آر اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیس لیس نظام کے نفاذ سے شفافیت آئی ہے اور اب ٹیکس دہندگان اور وصول کنندگان کا براہِ راست رابطہ ختم ہو جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 800 ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں جبکہ صرف شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارشی کلچر کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اور میرٹ کو فروغ دیا گیا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ بجٹ میں ہاؤسنگ اور ڈویلپمنٹ سیکٹر کو خصوصی ریلیف دیا گیا ہے، “اپنا گھر اسکیم” متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے بڑی سہولت ثابت ہوگی، جبکہ ایکسپورٹرز کی دیرینہ مطالبے کے مطابق سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے اور شپنگ سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے کم کرکے صفر کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے بھی اہم اقدام کرتے ہوئے ہائیجین مصنوعات پر عائد 18 فیصد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول آئندہ مالی سال کا بجٹ ہر طبقے کے لیے ریلیف پر مبنی بجٹ ہے اور حکومت نے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کو پذیرائی مل رہی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کے لیے کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سبز پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنی تقریر کا اختتام معروف شاعرہ پروین شاکر کے اشعار سے کیا:”بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہےبزمِ انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے”آخر میں انہوں نے “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگایا

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں