خیبرپختونخوا سے اپوزیشن کے واحد اقلیتی رکن قومی اسمبلی جیمس اقبال ترقیاتی فنڈز سے محروم،مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں معاشی کمیٹی تشکیل دینے کا مشورہ

اسلام آباد(ایم این این)قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے اقلیتی ارکان کے ترقیاتی فنڈز کا معاملہ سیاسی بحث کا نیا موضوع بن گیا ہے۔ حکومتی بینچوں پر بیٹھے نو اقلیتی ارکان کو ترقیاتی فنڈز جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا سے اپوزیشن کے واحد اقلیتی رکن قومی اسمبلی جیمس اقبال کو فنڈز نہ ملنے پر ایوان میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔

جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی جیمس اقبال نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران معاملہ اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ اگر انہیں ترقیاتی فنڈز سے محروم رکھا گیا ہے تو کیا خیبرپختونخوا میں چرچز، گوردوارے، مندر اور دیگر اقلیتی عبادت گاہیں موجود نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ صوبے کی اقلیتی برادریوں کے مسائل اور ضروریات کو نظر انداز کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔

جیمس اقبال نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے مساوی بنیادوں پر وسائل کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، تاہم اپوزیشن سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر انہیں فنڈز سے محروم رکھا جانا امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

رکن قومی اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ ایوان میں تقریر کے دوران ان کا مائیک بند کر دیا گیا، جسے انہوں نے پارلیمانی روایات اور اظہارِ رائے کے حق کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور منتخب نمائندہ انہیں اپنے حلقے اور برادری کے مسائل اجاگر کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

جیمس اقبال نے وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا سے اپوزیشن کے واحد اقلیتی رکن کی حیثیت سے ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم شفاف اور مساوی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔

اپنے خطاب کے دوران جیمس اقبال نے ملکی اور بین الاقوامی امور پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور عالمی کشیدگی کا خاتمہ دنیا کا ایک بڑا مسئلہ ہے، جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششیں قابل تحسین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو عالمی تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنے پر فیلڈ مارشل پر فخر ہے اور پاکستان کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھنا چاہیے۔

جیمس اقبال نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ اپوزیشن رکن ہیں، تاہم اچھے کام کی تعریف اور خامیوں پر تعمیری تنقید جمہوری روایت کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ملکی معیشت کی بہتری کے لیے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی قوتوں کی آراء سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو معاشی اصلاحات کے حوالے سے تجربہ کار رہنما قرار دیتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا کہ ان کی سربراہی میں معاشی روڈ میپ تیار کرنے کے لیے ایک قومی سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

جیمس اقبال کا کہنا تھا کہ مولانا مفتی محمود نے قوم کو آئین دیا تھا اور انہیں یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمان بھی قومی مسائل کے حل کے لیے اپنی صلاحیتوں سے قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔

رکن قومی اسمبلی نے پاک افواج میں خدمات انجام دینے والے مسیحی افسران اور جوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو ان بہادر سپوتوں پر فخر ہے جنہوں نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو محض سیاست نہیں بلکہ ریاست کی خدمت، قومی یکجہتی اور تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں