جنیوا سے اسلام آباد تک: کیا امن واقعی دستک دے رہا ہے؟

بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایسے مناظر سامنے آتے ہیں جو بظاہر تاریخی محسوس ہوتے ہیں، لیکن ان کی تہہ میں جھانکا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل فیصلے ابھی ہونے باقی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنیوا میں متوقع مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی الیکٹرانک سائننگ تقریب بھی کچھ ایسی ہی دکھائی دیتی ہے۔

اس پیش رفت کا سب سے غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ دنیا کی دو اہم طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی ابتدا کسی روایتی امن کانفرنس یا سربراہی اجلاس کے بجائے ایک الیکٹرانک تقریب کے ذریعے ہونے جا رہی ہے، جہاں فریقین اپنے اپنے ممالک یا مقامات سے ویڈیو لنک کے ذریعے دستاویز پر دستخط کریں گے۔ سفارتی تاریخ میں اس نوعیت کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں، اسی لیے یہ تقریب غیر معمولی بھی ہے اور کسی حد تک رسمی بھی محسوس ہوتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ایم او یو کی اطلاعات صرف غیر رسمی ذرائع تک محدود نہیں رہیں۔ امریکہ، ایران اور پاکستان تینوں کی جانب سے اس اہم پیش رفت کے اشارے سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ جنیوا میں ایک اہم پیش رفت متوقع ہے۔ اس کے باوجود کئی بنیادی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔

اگر واقعی تمام بڑے معاملات طے پا چکے ہیں تو پھر ٹیکنیکل کمیٹیوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

اطلاعات کے مطابق مختلف ٹیکنیکل کمیٹیاں اب بھی ان نکات پر غور کر رہی ہیں جن پر مکمل اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔ ان میں سکیورٹی خدشات، معاہدے پر عمل درآمد کا طریقہ کار، نگرانی کے نظام، مستقبل کے لائحہ عمل اور باہمی یقین دہانیوں جیسے اہم معاملات شامل ہو سکتے ہیں۔ یہی کمیٹیاں اپنی سفارشات مرتب کریں گی اور انہی سفارشات کی بنیاد پر مذاکرات کے اگلے مرحلے کی سمت کا تعین ہوگا۔

اسی لیے جنیوا میں ہونے والی ایم او یو سائننگ کو مستقل امن معاہدے کے بجائے ایک عبوری یا عارضی جنگ بندی کے تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ یہ حتمی منزل نہیں بلکہ ایک درمیانی پڑاؤ ثابت ہو۔

امن کے معاہدے صرف دستخطوں سے نہیں بنتے بلکہ ان پر عمل درآمد سے اپنی حقیقی حیثیت حاصل کرتے ہیں۔ جنیوا کی تقریب کی علامتی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اصل امتحان ان وعدوں کو زمینی حقیقت میں بدلنے کا ہوگا۔

میرے نزدیک اس پورے عمل کا ایک اور نہایت اہم پہلو پاکستان کا کردار ہے۔ اگر ٹیکنیکل کمیٹیاں باقی ماندہ اختلافات کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو بعید از قیاس نہیں کہ حتمی مذاکرات کا آخری دور اسلام آباد میں منعقد ہو۔ ایسی صورت میں مستقل جنگ بندی یا جامع امن معاہدہ “اسلام آباد ڈیکلیریشن” کے نام سے تاریخ کا حصہ بن سکتا ہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ خطے میں اس کے مثبت، متوازن اور تعمیری کردار کا بھی اعتراف تصور کیا جائے گا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ پاکستان کشیدگی کے دور میں بھی مکالمے اور مفاہمت کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس عمل کے ممکنہ ٹائم فریم پر بھی غور ضروری ہے۔ اگرچہ بعض حلقے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں بڑی پیش رفت کی توقع ظاہر کر رہے ہیں، تاہم حقیقت پسندانہ اندازہ یہی ہے کہ ٹیکنیکل سطح پر باقی ماندہ معاملات کو نمٹانے میں وقت درکار ہوگا۔ ذاتی طور پر میری رائے ہے کہ اس عمل کو مکمل ہونے میں ایک سے دو ماہ لگ سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ اگست تک کسی جامع اور مستقل معاہدے کی صورت سامنے آ جائے۔

اس تناظر میں امریکی داخلی سیاست کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو رواں سال نومبر میں انتخابی معرکے کا سامنا ہے اور امریکی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ خارجہ پالیسی میں بڑی کامیابیاں اکثر انتخابی مہمات میں اہم سیاسی سرمایہ بن جاتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذاکراتی عمل کی رفتار کو اس انداز سے ترتیب دیا جائے کہ انتخابی موسم کے قریب ایک بڑی سفارتی کامیابی دنیا کے سامنے پیش کی جا سکے۔

تاہم یہ سب فی الحال امکانات اور سیاسی تجزیے کے دائرے میں آتا ہے۔ حتمی حقیقت وہی ہوگی جو مذاکراتی میز پر طے پائے گی۔ امن کے سفر میں اعلانات سے زیادہ اہمیت عمل درآمد کی ہوتی ہے۔ جنیوا کی تقریب خواہ کتنی ہی تاریخی کیوں نہ قرار دی جائے، اصل امتحان ان معاہدوں کو دیرپا امن میں تبدیل کرنے کا ہوگا۔

آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں جنگ کی تھکن اور امن کی ضرورت دونوں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں۔ اگر جنیوا کا یہ ایم او یو واقعی اسلام آباد ڈیکلیریشن کی طرف پہلا قدم ثابت ہوتا ہے تو یہ صرف دو ممالک کے درمیان ایک معاہدہ نہیں ہوگا بلکہ اس حقیقت کا اعتراف بھی ہوگا کہ مذاکرات کی میز پر ہونے والی گفتگو بالآخر میدانِ جنگ میں لڑی جانے والی لڑائی سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے۔

وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ جنیوا کی یہ رسمی تقریب تاریخ کا ایک مختصر باب تھی یا ایک ایسے مستقل امن کی بنیاد، جس کا انتظار دنیا طویل عرصے سے کر رہی ہے۔

اس کالم میں پیش کیے گئے خیالات مصنف کی ذاتی آراء ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ کسی ادارے کی ادارتی پالیسی کی عکاسی کرتے ہوں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں