قومی اسمبلی نے 407 کھرب روپے سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری دے دی

اسلام آباد: (ایم این این)

قومی اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 407 کھرب 41 ارب روپے سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری دے دی۔ لازمی اخراجات سے متعلق بحث مکمل ہونے کے بعد آئین کے تقاضوں کے مطابق ان اخراجات پر ووٹنگ نہیں کرائی گئی۔

ایوان نے پاکستان پوسٹ آفس کے لیے 50 لاکھ روپے، الاؤنسز اور پنشن کی مد میں 6 ارب 93 کروڑ روپے جبکہ گرانٹس، امداد اور متفرق اخراجات کی مد میں 57 ارب روپے کے لازمی اخراجات کی منظوری دی۔

قومی اسمبلی نے بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کے لیے 50 کروڑ روپے اور قانون و انصاف ڈویژن کے لیے 53 کروڑ 94 لاکھ روپے کے لازمی اخراجات کی بھی منظوری دے دی۔ اسی طرح قومی اسمبلی کے لیے 7 ارب 96 کروڑ روپے جبکہ سینیٹ کے لیے 6 ارب 45 کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے بیرونی ترقیاتی قرضوں اور ایڈوانسز کی مد میں 607 ارب روپے سے زائد کے اخراجات منظور کیے گئے، جبکہ صدر مملکت کے عملہ خانہ، تنخواہوں اور الاؤنسز کے لیے 2 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی۔

ایوان نے غیر ملکی قرضوں کے سود اور دیگر واجبات کی مد میں 10 کھرب 71 ارب روپے سے زائد کے لازمی اخراجات جبکہ غیر ملکی قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی کے لیے 58 کھرب 36 ارب 27 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ قلیل المدتی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایک کھرب 30 ارب روپے مختص کیے گئے۔

مقامی قرضوں کے سود اور دیگر اخراجات کی مد میں 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد جبکہ ملکی قرضوں کی اصل رقم کی واپسی کے لیے 259 کھرب روپے سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری دی گئی۔ آڈیٹر جنرل کے دفتر اور آڈٹ سے متعلق امور کے لیے 9 ارب 82 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

عدلیہ کے لیے بھی خطیر فنڈز کی منظوری دی گئی، جس کے تحت سپریم کورٹ کے لیے 7 ارب 44 کروڑ روپے، وفاقی آئینی عدالت کے لیے 6 ارب روپے سے زائد اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 2 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد کے لازمی اخراجات منظور کیے گئے۔

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے دوران انتخابی امور کے لیے 10 ارب 57 کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دی، جبکہ کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کے لیے 25 کروڑ روپے سے زائد، وفاقی محتسب کے لیے 2 ارب روپے اور وفاقی ٹیکس محتسب کے لیے 64 کروڑ روپے سے زائد کے لازمی اخراجات کی بھی منظوری دے دی۔

لازمی اخراجات کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے دیگر مراحل، بشمول فنانس بل اور کٹوتی کی تحاریک، پر کارروائی جاری رہے گی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں