تیخوانا، میکسیکو (ایم این این): ایرانی فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 فیفا ورلڈ کپ کے دوران عائد کی جانے والی سفری پابندیوں کے خلاف فیفا میں باضابطہ شکایت درج کرائے گی، کیونکہ ان پابندیوں سے ٹیم کی تیاریوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔
فیڈریشن کے ترجمان کے مطابق ایران نے ٹورنامنٹ کی تیاریوں کا مکمل شیڈول کافی پہلے جمع کرا دیا تھا، تاہم اس کے باوجود ایسی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جو کوچنگ اسٹاف کے منصوبوں پر عمل درآمد میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ایران نے اپنے بیس کیمپ تیخوانا سے لاس اینجلس جانے کی اجازت دو روز قبل مانگی تاکہ اتوار کو بیلجیئم کے خلاف گروپ جی کے میچ سے پہلے کھلاڑی مقامی حالات سے ہم آہنگ ہو سکیں، آخری تربیتی سیشن مکمل کر سکیں اور میچ کی بھرپور تیاری کر سکیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی اور انتظامی وجوہات پیش کرنے کے باوجود ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
یہ معاملہ پیر کو نیوزی لینڈ کے خلاف ایران کے افتتاحی ورلڈ کپ میچ کے بعد سامنے آیا، جو دو، دو گول سے برابر رہا تھا۔ میچ کے اختتام کے چند گھنٹوں بعد ایرانی وفد کو امریکا چھوڑ کر واپس میکسیکو جانا پڑا۔
ایرانی حکام کے مطابق اس فیصلے کے باعث کھلاڑیوں کو مناسب آرام اور بحالی کا وقت نہیں مل سکا اور ٹیم کی مجموعی تیاری متاثر ہوئی۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو ان شرائط کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس فیفا ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو جولیانی کے مطابق ایران کی ٹیم کو ہر میچ سے ایک دن قبل امریکا آنے کی اجازت دی جائے گی اور میچ ختم ہونے کی شام ہی ملک چھوڑنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 26 جون کو سیئٹل میں مصر کے خلاف ایران کے آخری گروپ میچ کے لیے بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
گروپ جی میں شامل ایران نے شمالی امریکا میں اپنا ورلڈ کپ سفر کئی ماہ کی غیر یقینی صورتحال کے بعد شروع کیا۔ اس دوران امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور تنازع کے باعث ٹیم کی شرکت پر بھی سوالات اٹھتے رہے تھے۔



