وزیراعظم شہباز شریف سے ملک بھر کی کاروباری قیادت کی ملاقات، بجٹ تجاویز حکومت کو پیش کر دیں۔

اسلام آباد(ایم این این) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک بھر کے مختلف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور اور اعلیٰ قیادت پر مشتمل وفد نے ملاقات کی، جس میں آئندہ وفاقی بجٹ، معاشی ترقی، برآمدات کے فروغ، ٹیکس اصلاحات اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران کاروباری برادری کے نمائندوں نے وزیراعظم کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں اور معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے مختلف سفارشات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کی مسلسل اور مربوط کوششوں کے نتیجے میں قومی معیشت کو استحکام حاصل ہوا ہے اور اب توجہ تیز رفتار معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ پر مرکوز ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صنعتی ترقی اور ملکی پیداوار میں اضافے کے لیے آئندہ بجٹ میں مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور معیشت کو مزید وسعت مل سکے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حکومت کا بنیادی ہدف ہے اور اجتماعی کاوشوں کے ذریعے اس مقصد کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت جاری کی کہ 15 جون تک ٹیکس ریفنڈ کے تمام زیر التوا کیسز نمٹائے جائیں تاکہ برآمد کنندگان اور کاروباری طبقے کو درپیش مالی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

وزیراعظم نے برآمد کنندگان کے لیے بینکوں کی جانب سے ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح جون 2027 تک 4.5 فیصد برقرار رکھنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پالیسی ریٹ میں حالیہ اضافے کے باوجود یہ اقدام برآمدی شعبے کے لیے انتہائی اہم ہے اور ملکی برآمدات میں اضافے میں معاون ثابت ہوگا۔

کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) کا مرکزی دفتر کراچی منتقل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ علاوہ ازیں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کاروباری طبقے کی درخواست پر گجرات میں پاسپورٹ آفس قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی ترقی کے لیے اصلاحات اور سہولیات کی فراہمی حکومت کے معاشی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی شراکت داریوں اور جوائنٹ وینچرز کے ذریعے الیکٹرک وہیکلز کی مقامی پیداوار کو فروغ دیں تاکہ پاکستان جدید آٹو موبائل صنعت میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔

اجلاس میں شریک کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک بھر کی کاروباری برادری معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔

وفد نے “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام” کے تحت متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے آسان شرائط پر قرضہ اسکیم کے اجرا کا خیر مقدم کیا۔ اس کے علاوہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے بورڈ میں اصلاحات، پی آئی اے کی نجکاری کے عمل، ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور ای-انوائسنگ جیسے اقدامات پر بھی وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

کاروباری رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ گرے اکانومی کو ڈیجیٹل اصلاحات اور جدید نظام کے ذریعے رسمی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے نجی شعبہ حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا۔

مشاورتی اجلاس میں ایف پی سی سی آئی، کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، سرحد، کوئٹہ، گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ چیمبرز آف کامرس کی اعلیٰ قیادت شریک ہوئی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں