واشنگٹن/اسلام آباد (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کل دستخط ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز فوری طور پر عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھل جائے گی اور امریکا کے ایران کے ساتھ تعلقات ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں ہوگی جبکہ مناسب وقت پر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تلف کرنے کا عمل بھی مکمل کیا جائے گا۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے مجوزہ معاہدے کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ حتمی ہونے کے بعد امریکا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے عمل میں بھی حصہ لے گا۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ فریقین پہلے سے کہیں زیادہ امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور اس تاریخی پیش رفت پر امریکا، ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے تعاون کو سراہا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد ثابت ہوگا۔
تاہم ایران نے معاہدے کے وقت کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الحال ایرانی مذاکراتی ٹیم کے جنیوا یا اسلام آباد جانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔
انہوں نے تاہم اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ آئندہ چند روز میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو سکتے ہیں، البتہ حتمی وقت کا انتظار کرنا ہوگا۔
ادھر قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی بھی تعریف کی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے خلیجی بحران کے دوران پاکستان کی امن کوششوں میں قطر کے بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ معاہدہ جلد متعلقہ فریقین کے دستخط کے لیے تیار ہے۔
دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ متوقع امن معاہدہ “اسلام آباد پیکٹ” کے نام سے جانا جائے گا کیونکہ پاکستان نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے مذاکرات کا عمل جاری رہا اور مثبت نتیجے کے قریب پہنچا۔
خواجہ آصف نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بعض فریقوں، خصوصاً اسرائیل، پر تنقید کی اور کہا کہ خطے میں کشیدگی برقرار رکھنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم امریکا نے ذمہ دار عالمی قیادت کا مظاہرہ کیا۔
دریں اثنا، متحدہ عرب امارات نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایران کو 3 ارب ڈالر منتقل کرے گا۔
اماراتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے منجمد فنڈز کی منتقلی یا اجرا سے متعلق تمام اطلاعات بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں، اور میڈیا کو صرف مستند اور سرکاری ذرائع پر انحصار کرنا چاہیے۔



