پاکستان میں سگریٹ نوشی قومی صحت کے لیے سنگین خطرہ،ملک میں روزانہ 526 اموات،

رپورٹ:عثمان خان

پاکستان میں تمباکو نوشی خاموش قاتل بن چکی ہے، جہاں ہر روز پانچ سو چھبیس سے زائد افراد سگریٹ نوشی اور تمباکو کے استعمال سے جڑی بیماریوں کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ عالمی یومِ انسدادِ تمباکو 2026 کے موقع پر ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ، سپارک، نے عالمی یومِ انسدادِ تمباکو کے موقع پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی سالانہ ایک لاکھ بانوے ہزار سے زائد اموات کا سبب بنتی ہے، جو اوسطاً روزانہ پانچ سو چھبیس اموات کے برابر ہے۔

سپارک کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر کے مطابق اس سال عالمی یومِ انسدادِ تمباکو کا موضوع “کشش کا پردہ فاش کرنا، نکوٹین اور تمباکو کی لت کا مقابلہ” رکھا گیا ہے، جس کا مقصد تمباکو صنعت کی ان حکمت عملیوں کو بے نقاب کرنا ہے جو نوجوانوں اور بچوں کو اپنی مصنوعات کی طرف راغب کرتی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی جان لیتا ہے، جبکہ 13 لاکھ افراد ایسے ہیں جو خود تمباکو نوشی نہیں کرتے مگر دوسروں کے دھوئیں کے باعث متاثر ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ 6 سے 15 سال عمر کے تقریباً بارہ سو بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، جس سے نئی نسل نکوٹین کی مستقل لت کا شکار ہو رہی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق سگریٹ نوشی دل، پھیپھڑوں اور کینسر سمیت متعدد جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتی ہے، جبکہ بچوں اور نوجوانوں میں نکوٹین کی لت تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سگریٹ نوشی کا استعمال خواتین اور نوجوان نسل میں تیری سے پھیلنے لگا، اور اکثر اوقات خواتین کا تمباکو نوشی کے اقدام کو فیشن سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت پر بھی بھاری بوجھ ہے۔ تمباکو سے متعلق بیماریوں کے علاج، پیداواری صلاحیت میں کمی اور قبل از وقت اموات کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ تقریباً 1835 ارب روپے کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

۔

سپارک نے حکومت پر زور دیا ہے کہ تمباکو مصنوعات پر ٹیکسوں میں مزید اضافہ کیا جائے، تصویری صحتی انتباہات کو مؤثر بنایا جائے، تمباکو کی تشہیر پر مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور ای سگریٹس، نکوٹین پاؤچز اور دیگر نئی نکوٹین مصنوعات کے لیے سخت ضابطہ کار متعارف کرایا جائے۔ ماہرین کے مطابق بچوں اور نوجوانوں کو نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنا صرف صحت عامہ کا تقاضا نہیں بلکہ پاکستان کے محفوظ اور روشن مستقبل میں سرمایہ کاری بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت، پارلیمنٹ، والدین، اساتذہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مل کر تمباکو سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں