اسلام آباد (ایم این این)
پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں ثالثی کے کردار کو نمایاں قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مفاہمتی دستاویز پر بطور ثالث دستخط کرنے کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے۔
جاری کردہ معلومات کے مطابق اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث اس معاہدے کی توثیق کی ہے۔
ذرائع کے مطابق مفاہمتی یادداشت کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکراتی عمل کو فروغ دینا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر اس معاہدے پر عملی پیش رفت سامنے آتی ہے تو پاکستان کے لیے یہ حالیہ برسوں کی اہم ترین سفارتی کامیابیوں میں شمار ہو سکتی ہے۔
سیاسی اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی علاقائی تنازعات کے حل، مذاکرات کے فروغ اور اعتماد سازی کے اقدامات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے، تاہم امریکا اور ایران جیسے اہم ممالک کے درمیان کسی مفاہمتی دستاویز میں بطور ثالث شامل ہونا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ خطے میں کشیدگی میں کمی، توانائی کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ اور معاشی استحکام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
تاہم اس مفاہمتی یادداشت کے مندرجات، اس کے نفاذ اور متعلقہ ممالک کی جانب سے باضابطہ توثیق سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں، جبکہ عالمی سفارتی حلقے اس پیش رفت کو گہری دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب ایکس پر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کے نام سے ایک تاریخی معاہدہ الیکٹرانک طور پر طے پا گیا ہے۔ اگر اس معاہدے پر عملدرآمد ہوتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے ایکس اکاونٹ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘‘ پر الیکٹرانک دستخط مکمل کر لیے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے جبکہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والی شخصیت نے بھی بطور ضامن اس کی توثیق کی۔
بیان کے مطابق معاہدے کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا ہے اور اعلیٰ ترین سطح پر اس کی توثیق دونوں ممالک کے امن عمل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور ابتدائی اقدامات کے طور پر ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم سمندری راستہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی بندش یا بحالی کے عالمی معیشت پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں
بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر سفارت کاری اور پرامن حل کو ترجیح دے کر ایسے تنازع کے خاتمے میں کردار ادا کیا جو پورے خطے کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔
بیان میں امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی سراہا گیا اور کہا گیا کہ ان کی انتھک سفارتی سرگرمیاں اس پیش رفت میں معاون ثابت ہوئیں۔
ایرانی قیادت کے حوالے سے جاری بیان میں سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی قیادت کی بصیرت، تحمل اور تعمیری انداز اپنانے کی پالیسی نے اس ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
علاقائی سطح پر قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ان ممالک نے پس پردہ سفارتی کوششوں، رابطوں اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں معاونت فراہم کی۔
بیان میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی مسلسل کاوشوں، ذاتی دلچسپی اور علاقائی استحکام کے لیے کردار نے اس پیش رفت کو ممکن بنانے میں کلیدی حیثیت اختیار کی۔
بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔
تاہم اس معاہدے اور اس سے متعلق دعوؤں کی امریکا، ایران یا دیگر متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ اور آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، جس کے باعث اس پیش رفت کو فی الحال جاری کردہ بیان کے تناظر میں ہی دیکھا جا رہا ہے



