اسلام آباد:مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام سے حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں صرف 9 ماہ کے دوران 1205 ارب روپے سے زائد وصول کر لیے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک پیٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 میں 145 ارب روپے سے زائد، اگست میں 115 ارب جبکہ ستمبر میں 111 ارب روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کی گئی۔ اکتوبر میں یہ رقم بڑھ کر 142 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2025 میں 151 ارب روپے سے زائد جبکہ دسمبر 2025 میں سب سے زیادہ 157 ارب روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی اکٹھی کی گئی، جو رواں مالی سال کی بلند ترین ماہانہ وصولی قرار دی جا رہی ہے۔اسی طرح جنوری 2026 میں 124 ارب، فروری میں 120 ارب جبکہ مارچ 2026 میں 137 ارب روپے سے زائد وصول کیے گئے۔ مجموعی طور پر 9 ماہ کے دوران حکومت نے 1205 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل کی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی حکومت کے لیے ایک بڑا ریونیو ذریعہ بن چکی ہے، تاہم عوام کے مطابق مہنگی پیٹرولیم مصنوعات نے ان کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔سوشل میڈیا پر بھی ان اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی کا بوجھ آخر کب تک عوام برداشت کرتے رہیں گے۔



