بجٹ پر حکومت اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے، واٹر فنڈ اور ترقیاتی منصوبے مذاکرات کا حصہ

اسلام آباد (ایم این این)آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاری اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، تاہم حکمران اتحاد کے دو اہم اتحادیوں، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ واٹر فنڈ کے قیام، سندھ کے ترقیاتی منصوبوں اور صوبوں سے اضافی فنڈز کے مطالبے پر دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت ملک میں آبی ذخائر اور آبی سیکیورٹی کے منصوبوں کو تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے ایک خصوصی واٹر فنڈ قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبوں سے مجموعی طور پر تقریباً 400 ارب روپے جبکہ مساوی رقم وفاق کی جانب سے فراہم کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر فنڈ کو وفاقی ترقیاتی پروگرام سے الگ رکھا جائے گا تاکہ اہم آبی منصوبوں کی تکمیل کے لیے مستقل مالی وسائل دستیاب رہ سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بھی واٹر فنڈ کے قیام پر کوئی بنیادی اعتراض نہیں کیا۔دوسری جانب پیپلز پارٹی نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے کئی اہم منصوبوں کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی سکھر-حیدرآباد موٹروے اور کراچی-حیدرآباد موٹروے کو وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنوانا چاہتی ہے، جبکہ وفاقی حکومت ان منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کرنے کی حامی ہے۔حکومتی اور سیاسی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایم کیو ایم کے دباؤ پر کراچی اور حیدرآباد کے بعض ترقیاتی منصوبوں کو سندھ حکومت کے براہ راست انتظامی اثر سے نکال کر پاکستان انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کمپنی کے سپرد کیا گیا، جو شہری سندھ کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق دیہی سندھ میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں پیپلز پارٹی کا کردار اور اثر و رسوخ برقرار ہے، تاہم سندھ حکومت کراچی سمیت بڑے شہری منصوبوں پر بھی زیادہ انتظامی اختیار چاہتی ہے۔ادھر بجٹ کی منظوری کے لیے مسلم لیگ ن کو پارلیمان میں پیپلز پارٹی کی حمایت درکار ہے، جس کے باعث دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اپنی اپنی ٹیموں کے ساتھ آئندہ مالی سال کے بجٹ، ترقیاتی پروگرام اور مالی معاملات پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان متوقع مذاکرات آج ہونے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت رات گئے اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سید نوید قمر اور شیری رحمان نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی اندرونی مشاورت مکمل ہونے کے بعد حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ باضابطہ ملاقات کا وقت طے کیا جائے گا۔ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ مرکز کی جانب سے صوبوں سے تقریباً 1700 ارب روپے کے اضافی مالی وسائل کی دستیابی کا تقاضا کیا جا رہا ہے اور وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے ان مالی معاملات پر اتفاق رائے انتہائی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
واٹر فنڈ، سندھ کے ترقیاتی منصوبے، صوبائی مالی وسائل اور بجٹ میں ترقیاتی ترجیحات، یہی وہ نکات ہیں جن پر حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان آئندہ مذاکرات کا دارومدار ہوگا، جبکہ وفاقی بجٹ کی حتمی منظوری کے لیے اتحادیوں کے درمیان اتفاق رائے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں