لاہور (ایم این این) پنجاب حکومت نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے اور عزاداری کے جلوسوں و مجالس کی فول پروف سکیورٹی کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پاک فوج اور پاکستان رینجرز کی خدمات طلب کر لی ہیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر اور جامع بنانے کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے، جس میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق پنجاب کے 39 اضلاع میں مجموعی طور پر 137 کمپنیاں تعینات کی جائیں گی۔ ان میں پاک فوج کی 61 جبکہ پاکستان رینجرز کی 76 کمپنیاں شامل ہوں گی، جو صوبے بھر میں حساس مقامات، مرکزی جلوسوں، مجالس اور دیگر مذہبی اجتماعات کی سکیورٹی میں معاونت فراہم کریں گی۔
حکام کے مطابق فوج اور رینجرز کے دستے یکم محرم الحرام سے 11 محرم الحرام تک پنجاب پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر سکیورٹی فرائض سرانجام دیں گے۔

محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پنجاب پولیس کی سفارش اور درخواست پر کیا گیا ہے تاکہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
سکیورٹی پلان کے تحت حساس اور انتہائی حساس قرار دیے گئے علاقوں میں نگرانی مزید سخت کی جائے گی جبکہ جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر اضافی نفری تعینات ہوگی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی، داخلی و خارجی راستوں کی چیکنگ اور ہنگامی ردعمل کے لیے خصوصی انتظامات بھی کریں گے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق فوج اور رینجرز کی تعیناتی کا بنیادی مقصد عزاداروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا، مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور کسی بھی سکیورٹی خطرے سے بروقت نمٹنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے دوران تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ رکھا جائے گا جبکہ سکیورٹی انتظامات کا مسلسل جائزہ بھی لیا جاتا رہے گا تاکہ صوبے بھر میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔



