موسمیاتی تبدیلی،سماجی تحفظ اور پالیسی تحقیق کے لئے ایس ڈی پی آئی اور جامعہ سندھ کے درمیان معاہدہ

اسلام آباد (ایم این این) پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور جامعہ سندھ، جامشورو کے درمیان موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، سماجی تحفظ،معاشی خودمختاری، تحقیق، استعدادِ کار میں اضافے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ کےلئے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے گئے۔مفاہمتی یادداشت پر ایس ڈی پی آئی کے سینٹر فار ایویڈنس ایکشن ریسرچ کی سربراہ ڈاکٹر فریحہ ارمغان اور جامعہ سندھ کے ٹھٹھہ کیمپس کی پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مصباح بی بی قریشی نے دستخط کئے۔ اس موقع پر دونوں اداروں کے اساتذہ، محققین اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔معاہدے کے تحت دونوں ادارے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، پالیسی مطالعات، فیلڈ مداخلتوں، استعدادِ کار بڑھانے کے اقدامات، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلوں، تربیتی پروگراموں اور آگاہی و وکالت کی سرگرمیوں پر مل کر کام کریں گے۔ شراکت داری کے ذریعے طلبہ کے لیے انٹرن شپ کے مواقع، مشترکہ تحقیقی اشاعتیں، کمیونٹی کی شمولیت اور موسمیاتی تبدیلی، سماجی تحفظ، پائیدار ترقی اور معاشی خودمختاری سے متعلق شواہد پر مبنی پالیسی سفارشات کی تیاری کو بھی فروغ دیا جائے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت ایس ڈی پی آئی اور جامعہ سندھ کے درمیان پہلے سے جاری کامیاب تعاون کا تسلسل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ادارے اس سے قبل ڈیجیٹل فنانشل لٹریسی ٹریننگ (ڈی ایف ایل ٹی) پروگرام پر مشترکہ طور پر کام کر چکے ہیں جسے پاکستان میں یورپی یونین اور جرمن حکومت نے جی آئی زیڈ پاکستان کے ذریعے معاونت فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد سندھ کے دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کرتے ہوئے ان خواتین زرعی کارکنوں کو مالیاتی نظام سے جوڑنا ہے جو عموماً ترقیاتی مواقع سے محروم رہتی ہیں۔ یہ پروگرام آگاہی، شعور بیداری اور تربیت کے ذریعے مالیاتی خدمات تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو کم کرتا ہے اور مالی شمولیت و معاشی استحکام کو فروغ دیتا ہے۔ خواتین کو باضابطہ مالیاتی نظام کا حصہ بنا کر ان کی پائیدار معاشی خودمختاری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی سرزمین ترقیاتی اقدامات کے لئے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ ضلع ٹھٹھہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والی آفات سے شدید متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے اسی لئے یہ ضلع موسمیاتی لچک اور ترقیاتی منصوبوں کےلئے ترجیحی حیثیت رکھتا ہے۔ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے اعلان کیا کہ ایس ڈی پی آئی جلد ہی فیلڈ ورک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرے گا جس میں جامعہ سندھ کے جامشورو کیمپس کے تقریباً 100 طلبہ شریک ہوں گے۔پروفیسر ڈاکٹر مصباح بی بی قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعات معاشرتی تبدیلی کا اہم ذریعہ ہیں اور تھنک ٹینکس کے ساتھ شراکت داری علمی تحقیق کو عملی ترقیاتی نتائج میں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جامعات اور پالیسی اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے علم کی تخلیق اور موثر عملی اقدامات کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے، تاکہ مقامی آبادی کو حقیقی فوائد پہنچ سکیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں اداروں کے لئے تحقیق اور پالیسی امور میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا ایک اہم موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ایس ڈی پی آئی نے صوبائی سطح کے مسائل اور ترقیاتی ترجیحات پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے، جس کے باعث مقامی شواہد اور موثر پالیسی حل کی تیاری کے لیے جامعات کے ساتھ اشتراک ناگزیر ہو گیا ہے۔ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ جامعہ سندھ کا جامشورو کیمپس اپنی مضبوط تحقیقی بنیاد اور ملک کے اہم زرعی خطوں میں واقع ہونے کے باعث خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایس ڈی پی آئی کا فیکلٹی ایکسچینج پروگرام دونوں اداروں کے درمیان مہارتوں کے تبادلے، تحقیقی تعاون کے فروغ اور ادارہ جاتی سیکھنے کے عمل کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے جامعہ سندھ کی جانب سے طویل المدتی شراکت داری کے عزم پر بھی شکریہ ادا کیا۔مفاہمتی یادداشت کے مطابق دونوں ادارے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، سماجی تحفظ، پائیدار روزگار، معاشی ترقی اور کمیونٹی کی لچک کے موضوعات پر مشترکہ تحقیق اور پالیسی مکالمے کا انعقاد کریں گے جبکہ طلبہ کو فیلڈ ریسرچ اور ترقیاتی سرگرمیوں میں فعال شرکت کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر شفقت منیر احمد اور ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی یادگار کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر مصباح بی بی قریشی کو سووینئر پیش کیا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں