اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے مکمل طور پر محفوظ رہیں گے اور ترقیاتی فنڈز منجمد کرنے کے فیصلے کے باوجود صوبوں سے مزید کسی قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق اور صوبوں نے غیر معمولی دفاعی اور قومی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مشترکہ طور پر بوجھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت کیا گیا ہے اور مکمل طور پر آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق اس شق کے تحت وفاق اور صوبے ایک دوسرے کو گرانٹس فراہم کر سکتے ہیں۔
بلاول نے وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مسلسل مشاورت کرکے قومی مفاد میں قابل قبول حل تلاش کیا۔
انہوں نے اس اتفاق رائے کو پاکستان کی جمہوری سیاست کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور وفاقی اکائیوں نے قومی سلامتی کے معاملے پر اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ اگر قومی معاملات پر اسی جذبے سے کام کیا جائے تو ملک کو درپیش کوئی بھی چیلنج ناقابل حل نہیں رہے گا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس قسم کے عارضی مالی انتظامات مستقل حل نہیں ہوتے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو طویل المدتی معاشی حکمت عملی اور ترقی پر مبنی پالیسیوں پر توجہ دینی چاہیے۔
بلاول نے اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے خاتمے سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ دونوں تاریخی کامیابیاں ہیں، تاہم صوبوں کو آج بھی ان کا مکمل حق نہیں مل رہا۔
انہوں نے پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس آمدنی میں صوبوں کو ان کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل اور معاشی استحکام کے لیے بجٹ سرپلس دکھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔
بلاول نے کہا کہ سندھ حکومت کا سرپلس بجٹ کراچی، لاڑکانہ اور نواب شاہ جیسے علاقوں کی ترقی پر خرچ کیا جا سکتا تھا، لیکن قومی معاشی ضرورت کے تحت یہ قربانی دی جا رہی ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ این ایف سی تقسیم میں ان علاقوں کی ضروریات کو مناسب انداز میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس چھوٹ میں توسیع نہ ہونا افسوسناک ہے۔
خطاب کے آغاز میں بلاول بھٹو زرداری نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امن سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ اپنے مطالبات سڑکوں کے بجائے جمہوری اداروں کے ذریعے پیش کریں۔ انہوں نے تشدد اور انتہاپسندی کی مخالفت کرتے ہوئے مکالمے کی حمایت کی۔
انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی نمائندگی اور حقِ رائے دہی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
گلگت بلتستان کے حوالے سے بلاول نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرنے والے عوام کو اب تک مکمل آئینی حقوق اور پارلیمانی نمائندگی کیوں نہیں دی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری بنیادوں پر پارلیمانی مباحث میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک فلاحی منصوبہ نہیں بلکہ غربت کے خاتمے، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور قومی سلامتی کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ترقی اور معاشی نمو پر مبنی پالیسیاں اپنائے تاکہ پسماندہ علاقوں اور کم آمدنی والے طبقات کو بھی ترقی کے ثمرات حاصل ہو سکیں اور ملک قرضوں پر انحصار کم کر سکے۔



