لندن (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے بارے میں مبینہ ریمارکس کے بعد جمعہ کو اٹلی اور امریکا کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی، جس پر روم نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
جارجیا میلونی نے اطالوی ٹی وی چینل لا سیٹے کو دیے گئے ایک فون انٹرویو میں ٹرمپ سے منسوب بیانات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تبصروں پر “واقعی ششدر” ہیں۔ جاری کردہ تحریری متن کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران میلونی نے ان سے تصویر بنوانے کی درخواست کی تھی اور وہ صرف ہمدردی کی بنا پر اس پر آمادہ ہوئے تھے۔
میلونی نے ان بیانات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ وہ اور نہ ہی اٹلی کبھی کسی سے منت سماجت کرتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ امریکی صدر اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں، جبکہ وہ مغرب اور امریکا کے مخالفین کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ رکھتے ہیں۔
اس معاملے پر اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے امریکا کا 21 اور 22 جون کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔ انہوں نے ٹرمپ کے مبینہ الفاظ کو سنگین اور توہین آمیز قرار دیا۔
اٹلی کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی اس معاملے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ وزیر انصاف کارلو نوردیو نے اسے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے تکلیف دہ دھچکا قرار دیا جبکہ وزیر دفاع گوئیڈو کروسیٹو نے کہا کہ اس قسم کے تبصرے کسی کے مفاد میں نہیں ہوتے۔
چند روز قبل جی سیون سربراہی اجلاس کے اختتام پر جارجیا میلونی نے اجلاس کی فضا کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کے درمیان کوئی کشیدگی نہیں تھی، اگرچہ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان دونوں کی شخصیات خاصی مضبوط ہیں۔
اجلاس کے دوران دونوں رہنما کئی مواقع پر ایک ساتھ بھی دیکھے گئے اور ان کی ملاقاتوں کو خوشگوار قرار دیا گیا تھا۔
میلونی نے طویل عرصے سے یورپ اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی حالیہ جنگ کے دوران تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔ اپریل میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب میلونی نے پوپ لیو چہاردہم کے جنگ مخالف مؤقف پر ٹرمپ کی تنقید کا دفاع کیا۔
اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے میلونی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اٹلی نیٹو میں امریکا کی مناسب مدد نہیں کر رہا۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ امریکا اٹلی میں اپنی فوجی موجودگی کم کر سکتا ہے کیونکہ روم نے ایران سے متعلق تنازع کے دوران واشنگٹن کا خاطر خواہ ساتھ نہیں دیا۔



