محمد اورنگزیب کا تحریک استحقاق کو حقائق کے منافی قرار، معاشی اشاریوں، ٹیکس اصلاحات اور ایران۔امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو نمایاں کامیابی قرار دیا
اسلام آباد(ایم این این) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ دستاویزات میں تضادات سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک استحقاق حقائق کے برعکس اور اعداد و شمار کی غلط تشریح پر مبنی ہے، جبکہ پاکستان نے حالیہ سفارتی پیش رفت کے ذریعے دنیا میں امن کے فروغ اور دو حریف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لا کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) اور دیگر معاشی اعداد و شمار نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی میں تمام صوبوں، وفاقی اداروں اور ماہرین کی مشاورت سے مرتب کیے جاتے ہیں، اس لیے بجٹ دستاویزات میں تضاد کا تاثر درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026 کے لیے 452 ارب ڈالر کی معیشت کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے اور تمام معاشی اشاریے مردم شماری، آبادی اور دیگر مستند ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو غیر معمولی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ “امن کی فاختہ ایک مرتبہ پھر اڑنے لگی ہے”۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں کے بعد دو حریف ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر اپنا وقار بلند کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے اس سفارتی کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اتحادی جماعتوں، اپوزیشن اور پوری قوم کو مبارکباد پیش کی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں معاشی استحکام آیا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے، برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ آئی ٹی ایکسپورٹس میں 20 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور ٹیکس دہندگان اور ٹیکس حکام کے درمیان براہ راست رابطے کے خاتمے کے لیے فیس لیس نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت نے گزشتہ دو برس کے دوران 14 ارب ڈالر کے اضافی محصولات حاصل کیے، جو 1988 کے بعد ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے فروغ کے لیے 300 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے، جس سے سات لاکھ پچاس ہزار چھوٹے کاشتکار مستفید ہوں گے۔ اس کے علاوہ فصلوں کی انشورنس کے لیے 1.7 ارب روپے اور زرعی کولڈ اسٹوریج منصوبوں کے لیے 7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جان بچانے والی ادویات پر ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے جبکہ ہاؤسنگ اور تعمیراتی شعبے کے لیے بھی متعدد مراعات رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی بیشتر سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بجٹ بحث میں حصہ لینے والے ارکان، اپوزیشن لیڈر، چیئرمین سینیٹ، قائمہ کمیٹیوں، میڈیا، معاشی ماہرین اور چیمبرز آف کامرس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو ایوان کے اندر اور باہر ایک متوازن مالیاتی دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے وزیراعظم شہباز شریف، میاں نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مگسی اور دیگر اتحادی جماعتوں کی حمایت پر بھی اظہار تشکر کیا۔



