
*عثمان خان*
دنیا کی تاریخ میں جب بھی دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہوئی ہیں تو نقصان ہمیشہ انہی کا ہوا ہے جن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں، روزی کا پیالہ تھا۔ ایران اور امریکہ کا موجودہ تنازعہ بھی اسی المیے کی ایک نئی کڑی ہے — ایک ایسی آگ جو دو ملکوں میں لگی مگر دھواں پوری دنیا پر چھا گیا۔وہ دن جب دنیا بدل گئی28 فروری 2026 کا وہ سحر پو کسی کو یاد نہیں رہے گا — بس وہ لمحہ یاد رہے گا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے۔ ایرانی سپریم لیڈر سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار ان حملوں میں ہلاک ہوئے۔ ایران نے جواباً اسرائیل، امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون برسائے اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا — وہ آبنائے جس سے دنیا کا تیل کا بیس فیصد گزرتا ہے۔ایک رات میں عالمی تجارت کانپ اٹھی۔ تیل مارکیٹیں ہل گئیں۔ اسٹاک ایکسچینجز میں لہریں اٹھیں۔ اور دنیا بھر کے عام آدمی نے محسوس کیا کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی — وہ ہر اس گھر میں لڑی جاتی ہے جہاں مہنگائی کا بوجھ پہلے سے ناقابلِ برداشت ہو۔اس آگ کو بجھانے کے لیے جو ہاتھ آگے بڑھا — وہ صرف پاکستان کا ہاتھ تھا۔ 8 اپریل 2026 کو پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی ہوئی — وہ جنگ بندی جسے دنیا نے سکھ کا سانس لے کر خوش آمدید کہا۔11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں تاریخی مذاکرات ہوئے۔ میز پر بیٹھے تین فریق — امریکہ، ایران اور پاکستان — اور میز پر رکھے مسائل پہاڑ جیسے بھاری: آبنائے ہرمز کا مستقبل، ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی، اور مستقل امن کا نقشہ۔مگر اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ ایران نے تجویز مسترد کر دی اور اپنا 10 نکاتی امن فارمولا پیش کیا جسے واشنگٹن نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔امریکی ناکہ بندی — زخم پر نمک ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔جب مذاکرات ناکام ہوئے تو ٹرمپ نے 13 اپریل کو ایران پر بحری ناکہ بندی عائد کر دی — ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والے تمام بحری جہازوں پر پابندی۔ ایران کو اس ناکہ بندی سے روزانہ پانچ سو ملین ڈالر کا نقصان ہونے لگا۔ایران نے جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی اور بعض غیر ملکی بحری جہاز ضبط کر لیے۔ ایران کے مذاکراتی نمائندے اور پارلیمان اسپیکر محمد باقر قالیباف نے صاف کہا: جب تک امریکی ناکہ بندی نہیں اٹھتی، مکمل جنگ بندی ممکن نہیں۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی بیانات کو محض ایک “ذرائع ابلاغ کا کھیل” قرار دیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کا کوئی سنجیدہ امکان نہیں۔ دونوں طرف سے الزامات کی یہ لہر اس بات کی گواہی ہے کہ جنگ بندی کاغذ پر تھی، دلوں میں نہیں۔ٹرمپ کا الٹی میٹم اور امن کی کرن اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے مارچ میں کہا تھا کہ وہ صرف ایران کی “غیر مشررط ڈیل قبول کریں گے — یعنی مکمل ہتھیار ڈالنا۔ انہوں نے 21 مارچ، پھر 23 مارچ، پھر 7 اپریل کی ڈیڈ لائنیں مقرر کیں — اور پھر ہر بار پیچھے ہٹنا پڑا۔21 اپریل کو ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع دی تاکہ ایران اپنی تجاویز پیش کر سکے۔ 22 اپریل کو امریکی حکام نے ایران کو تین سے پانچ دن کی مہلت دی۔اور پھر 24 مئی 2026 کو ایک نئی خبر نے دنیا کو چونکا دیا — ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ “تقریباً طے ہو چکا ہے” جس میں آبنائے ہرمز کا کھلنا بھی شامل ہے۔ یہ “امن کی یادداشت” ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکی — مگر یہ پہلی بار ہے کہ تاریکی میں روشنی کی کرن نظر آئی ہے۔مذاکرات کے اس وقت جو ایجنڈا میز پر ہے وہ پیچیدہ ہے مگر واضح:پہلا — آبنائے ہرمز کا کھلنا اور بحری تجارت کی بحالی، جو عالمی توانائی منڈیوں کے لیے سانس لینے کے مترادف ہے۔دوسرا — ایران کا جوہری پروگرام، عالمی نگرانی کا نظام اور جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کی نئی شرائط۔تیسرا — ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی — جو تہران کے لیے سب سے حساس نکتہ ہے۔اور چوتھا — خطے میں پراکسی گروپس کی سرگرمیوں پر قابو اور لبنان سمیت دیگر محاذوں پر جنگ بندی۔دنیا کا دردیہ جنگ صرف ایران اور امریکہ کی نہیں — یہ ان لاکھوں لوگوں کی جنگ ہے جو پہلے سے مہنگائی، قرضوں اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے تھے۔ روس یوکرین کا زخم ابھی بھرا نہیں تھا، غزہ کا خون ابھی خشک نہیں ہوا تھا اور بحیرہ احمر کی کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو پہلے سے لرزا رکھا تھا۔پاکستان، مصر، لبنان اور افریقہ کے کئی ممالک قرضوں، مہنگائی اور زرمبادلہ کے بحران میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے تیل کی قیمتوں میں ہر اضافہ ایک نئی آفت ہے — وہ آفت جو توپوں سے نہیں آتی بلکہ روٹی کی قیمت میں آتی ہے۔یورپ مہنگائی، توانائی بحران اور صنعتی سست روی کے بوجھ تلے پہلے سے دبا ہوا تھا۔ خلیجی ممالک — سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر — جانتے ہیں کہ مسلسل کشیدگی ان کے سیاحت، تعمیرات اور مالیاتی شعبے کو بھی کھا جائے گی۔ اسی لیے یہ ممالک بھی امن کے خواہاں ہیں — مگر امریکہ کے سائے میں کھڑے ہو کر بولنا آسان نہیں۔دو آرا، ایک میزامریکی انتظامیہ کے اندر بھی اس وقت دو دھڑے ہیں۔ ایک کہتا ہے: معاشی استحکام کے لیے فوری جنگ بندی ضروری ہے، دنیا مزید آگ برداشت نہیں کر سکتی۔ دوسرا کہتا ہے: ایران پر دباؤ ہٹانا امریکی اسٹریٹیجک مفادات سے غداری ہے، کمزوری کا تاثر خطے میں امریکی اثر و رسوخ ختم کر دے گا۔اس کشمکش کا نتیجہ ہے — بیک ڈور ڈپلومیسی، خفیہ رابطے، ثالثی کا بے سکون عمل — اور درمیان میں کھڑا پاکستان، جو دونوں طرف سے دباؤ سہتے ہوئے امن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش میں ہے۔ — جنگ معیشت نہیں، معیشت جنگ ہےآج کی دنیا میں جنگیں صرف فوجی طاقت سے نہیں جیتی جاتیں — وہ اسٹاک مارکیٹوں سے، کرنسیوں سے، سپلائی چینوں سے اور عام آدمی کی قوتِ خرید سے بھی لڑی جاتی ہیں۔اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں — اگر وہ “امن کی یادداشت” حقیقت بن جاتی ہے جس کا ٹرمپ نے دعویٰ کیا — تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تجارت، توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارتکاری میں ایک نئے توازن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔مگر اگر یہ موقع ہاتھ سے گیا — تو پھر جو دھواں اٹھے گا، وہ صرف تہران اور واشنگٹن میں نہیں — پوری دینا میں بھی پھیلے گا۔دنیا جنگ نہیں، زندگی چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ یہ بات کب سمجھیں گے



