سترہ (17) کھرب سے زائد حجم کا نیا وفاقی بجٹ لانےکی تیاریاں

اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے 17.1 کھرب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ 5 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ بجٹ میں معاشی استحکام، محصولات میں اضافے اور مالیاتی نظم و ضبط کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح نمو 4.1 فیصد مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 8.4 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ حکومت نے ٹیکس وصولیوں کے لیے 15.267 کھرب روپے کا بڑا ہدف مقرر کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ مالی خسارے پر قابو پایا جا سکے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل مہیا کیے جا سکیں۔بجٹ دستاویزات کے ابتدائی خدوخال کے مطابق وفاقی اخراجات کا بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں پر مشتمل ہوگا، جس کے لیے 7.824 کھرب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ دفاعی ضروریات کے پیش نظر دفاعی بجٹ کے لیے 2.665 کھرب روپے رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی مختلف تجاویز پر غور جاری ہے۔ ابتدائی طور پر 7 سے 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر بحث ہے، تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنظیمیں موجودہ مہنگائی، بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی بلز اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ملازمین کی مختلف تنظیموں نے تنخواہوں اور پنشن میں 50 سے 100 فیصد تک اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے بجٹ سے قبل احتجاجی تحریک چلانے اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہروں کا عندیہ بھی دیا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کو ایک ایسے بجٹ کی تیاری کا چیلنج درپیش ہے جس میں ایک جانب بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے مالیاتی اہداف کو پورا کرنا ہے جبکہ دوسری جانب عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے ریلیف بھی فراہم کرنا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ حکومت کے لیے ایک اہم امتحان ہوگا کیونکہ عوام کی نظریں تنخواہوں، پنشن، ٹیکس پالیسی، توانائی نرخوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز پر مرکوز ہیں۔ بجٹ میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف ملکی معیشت کی سمت کا تعین کریں گے بلکہ آنے والے مہینوں میں عوامی ردعمل اور معاشی سرگرمیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں