اسلام آباد(ایم این این) وفاقی حکومت نے 9 مارچ 2026 سے نافذ کیے گئے ایندھن بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کرتے ہوئے متعدد سرکاری اور انتظامی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
حکومتی فیصلے کے تحت محدود استعمال کی وجہ سے کھڑی کی گئی سرکاری گاڑیاں دوبارہ سڑکوں پر آ سکیں گی جبکہ وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں معمول کے مطابق دفتری حاضری بحال کر دی گئی ہے۔ ورک فرام ہوم کی عارضی پالیسی ختم کر دی گئی ہے اور سرکاری ادارے اپنی معمول کی استعداد کے مطابق کام کر سکیں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق آن لائن اور ویڈیو لنک اجلاسوں کو ترجیح دینے کی پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد وزارتوں، ڈویژنز اور دیگر سرکاری اداروں میں روایتی اجلاس اور انتظامی سرگرمیاں دوبارہ معمول کے مطابق منعقد کی جا سکیں گی۔
بحال کیے جانے والے اقدامات میں سرکاری گاڑیوں کا مکمل استعمال، دفتری امور کی معمول کے مطابق انجام دہی، سرکاری سطح پر اجلاسوں اور انتظامی سرگرمیوں کی بحالی، بعض سفری سہولتوں میں نرمی، سرکاری مشینری کی مکمل فعالیت اور محدود آپریشنز کے خاتمے کے بعد ادارہ جاتی سرگرمیوں کی بحالی شامل ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ 9 مارچ 2026 سے پہلے نافذ کیے گئے کفایت شعاری اقدامات بدستور برقرار رہیں گے، جبکہ صرف بعد ازاں نافذ کیے گئے اضافی ایندھن بچت اقدامات ختم کیے جا رہے ہیں۔



