وفاقی بجٹ 2026-27 مسترد، اپوزیشن کی شدید تنقید، حکومت نے بجٹ کو عوام دوست قرار دے دیا

اسلام آباد (ایم این این): اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو مسترد کرتے ہوئے حکومت پر معاشی حقائق کو نظرانداز کرنے، عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے اور غربت میں اضافے کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا، جبکہ حکومت نے بجٹ کو ریلیف پر مبنی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے معاشرے کے تمام طبقات کو فائدہ پہنچے گا۔

اسلام آباد میں بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت کے معاشی دعوؤں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خود کو دھوکہ دے رہے ہیں اور یہ دعویٰ کہ روزانہ 280 روپے کمانے والا شخص خط غربت سے نیچے نہیں آتا، زمینی حقائق کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ پاکستانی عوام غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے ملکی معیشت کو ایک گھرانے کے بجٹ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اخراجات آمدن سے بڑھ جائیں تو قرض لینا پڑتا ہے اور پھر اثاثے فروخت کرنے کی نوبت آ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آمدن اس کے اخراجات سے کم ہے اور حکومت نے نہ تو اخراجات کم کرنے اور نہ ہی آمدن بڑھانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ انتخابات اسی نظام کے تحت ہوئے تو نتائج انتہائی خراب ہوں گے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ غربت میں اضافہ موجودہ معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کا اصل پیمانہ عوام کی زندگیوں میں بہتری ہے، جبکہ کم آمدنی والے طبقات کے لیے زندگی مسلسل مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی خدمات کے بغیر ٹیکس نظام مؤثر نہیں ہو سکتا اور عوام سے ٹیکس وصول کرنے کے ساتھ انہیں بنیادی سہولیات بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے بجٹ کو پاکستان کے لیے “معاشی ایمرجنسی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت شدید بحران اور قرضوں کے بوجھ میں جکڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے حکومتی دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے جبکہ قرضوں میں مسلسل اضافہ ملک کے مستقبل کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق حکومت سود کی ادائیگیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور قرضوں کے ذریعے نظام چلانا کوئی پائیدار حل نہیں۔

سابق وزیر اعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گزشتہ چار سال پاکستان کی معیشت کے لیے بدترین ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اخراجات ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ ہو چکے ہیں جبکہ پنشن کی مد میں اخراجات حکومت چلانے کی لاگت سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سود اور قرضوں کی ادائیگیاں قومی آمدن سے بڑھ رہی ہیں اور ہر سال قرضوں میں اضافہ ہونے سے معاشی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نئے ٹیکسوں نے عوام پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا ہے جبکہ حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید قرضے لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ریلیف کے دعوے حقیقت سے دور دکھائی دیتے ہیں کیونکہ عام پاکستانی بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے نظام میں بنیادی اصلاحات، قانون کی حکمرانی، سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے ٹیکس نظام کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عام آدمی 60 فیصد تک ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جاتا بلکہ صرف اعداد و شمار تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی ختم کرنے، آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی کپیسٹی ادائیگیوں کے خاتمے اور عوامی نمائندوں کے ترقیاتی فنڈز بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ سرکاری گاڑیوں کا انجن 1300 سی سی سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور بجٹ محض اعداد و شمار کو اوپر نیچے کرنے کا نام بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام کو متاثر کرتا ہے جبکہ حکومت خود بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے دباؤ کا اعتراف کر چکی ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو “ریلیف پر مبنی بجٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشرے کے تمام طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین معاشیات اور مختلف حلقوں نے بجٹ کا مثبت خیرمقدم کیا ہے اور حکومت اپوزیشن کی تعمیری تجاویز کو بھی خوش آمدید کہتی ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں نمایاں ریلیف دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 50 ہزار روپے ماہانہ تک آمدن رکھنے والے افراد پر کوئی انکم ٹیکس عائد نہیں ہوگا جبکہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن والوں کے لیے صرف ایک فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ملک میں معاشی استحکام حاصل ہوا ہے اور پاکستان کی معیشت اب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے بری فوج کے سربراہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی معاشی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کے تحت ایسا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس سے ٹیکس ادا کرنے والوں کو ان افراد کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا جو ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ انہوں نے اظہارِ امید کیا کہ پاکستان کی معیشت مستقبل میں مزید مضبوط ہوگی اور ترقی کا سفر جاری رہے گا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں