غربت، مہنگائی اور تعلیمی محرومی نے ہزاروں بچوں سے بچپن چھین لیا، سیاسی و سماجی شخصیات کا چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد (ایم این این): دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر کے عالمی دن کے موقع پر بچوں سے مشقت کے خاتمے اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں ایسے لاکھوں بچوں کی حالت زار کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے جو تعلیم، کھیل اور محفوظ بچپن کے بجائے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر اب ایک سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ بن چکی ہے۔ مختلف سرویز اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 86 لاکھ بچے کسی نہ کسی شکل میں مشقت کا شکار ہیں، جبکہ ان میں سے 27 لاکھ بچے خطرناک اور بدترین نوعیت کے کام انجام دے رہے ہیں۔ ان بچوں کی ایک بڑی تعداد ورکشاپس، بھٹہ خشت، زراعت، گھریلو ملازمت، ہوٹلوں اور دیگر غیر رسمی شعبوں میں کام کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو دنیا میں تعلیم سے محروم بچوں کی بڑی تعداد میں شمار ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق غربت، مہنگائی، عدم مساوات اور معیاری تعلیم تک محدود رسائی بچوں کو مزدوری کی جانب دھکیلنے کی بنیادی وجوہات ہیں، جبکہ معاشی دباؤ کے باعث متعدد خاندان اپنے بچوں کو تعلیم کے بجائے روزگار پر لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 5 سے 14 سال عمر کے 37 فیصد بچے خاندان کی کفالت میں کردار ادا کرنے کے لیے مشقت کرتے ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں چائلڈ لیبر کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ کم عمر بچیاں بھی اس استحصال سے محفوظ نہیں، جو ہفتے میں 21 گھنٹے سے زائد غیر اجرتی گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہیں۔
سیاسی اور حکومتی شخصیات نے بھی عالمی یومِ انسدادِ چائلڈ لیبر کے موقع پر اپنے پیغامات میں اس مسئلے کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ چائلڈ لیبر ایک سنگین قومی چیلنج بن چکی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق ہر بچے کو محفوظ بچپن، معیاری تعلیم اور اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا حق حاصل ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ چائلڈ لیبر محض مزدوری کا نہیں بلکہ انسانی حقوق، ترقی اور سماجی انصاف کا بھی اہم مسئلہ ہے، جو نسل در نسل غربت اور تعلیمی محرومی کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینِ پاکستان بچوں کو خطرناک مشقت سے تحفظ اور مفت تعلیم کا بنیادی حق دیتا ہے، تاہم قانون سازی کے ساتھ مؤثر عملدرآمد اور سخت نگرانی بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پائیدار ترقیاتی اہداف، بالخصوص ایس ڈی جی 8.7 کے تحت چائلڈ لیبر کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت میں کمی، سماجی تحفظ اور معیاری تعلیم تک رسائی کو یقینی بنائے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں۔
عالمی یومِ انسدادِ چائلڈ لیبر اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ کوئی بھی بچہ اپنی بقا کی خاطر اپنے بچپن، تعلیم اور خوابوں سے محروم نہ ہو اور ریاست، معاشرہ اور ہر فرد اس مقصد کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔



