اسلام آباد (ایم این این) گرین جرنلزم” کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر کامسٹیک اور دیگر منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گرین جرنلزم کے فروغ اور ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے یہ ایک بروقت اور مؤثر اقدام ہے۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ باخبر اور باشعور معاشرے کی تشکیل میں ذرائع ابلاغ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور ذمہ دار صحافت ماحول دوست معاشرے کے قیام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین جرنلزم ذمہ دار اور بامقصد صحافت کی نئی جہت ہے، جو عالمی ماحولیاتی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کاربن کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ محض ایک فیصد ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور حالیہ برسوں میں دو تباہ کن سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات معیشت، زراعت، صحت اور سماجی زندگی سمیت ہر شعبے کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے آگاہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کو قومی اور عالمی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔ عطاء اللہ تارڑ نے اس حوالے سے مذہبی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں درخت لگانے کو صدقہ جاریہ قرار دیا گیا ہے، لہٰذا ماحولیات کا تحفظ صرف قومی یا اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مذہبی فریضہ بھی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے ایکو سسٹم کو بدلنے اور ماحول دوست طرزِ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماحول دوست اقدامات کی ترویج میں میڈیا کی فعال شمولیت ناگزیر ہے اور گرین جرنلزم مستقبل میں مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے



