اسلام آباد(ایم این این)آزاد جموں و کشمیر میں مہاجرین نشستوں، انتخابی اصلاحات اور آئینی معاملات کے حوالے سے جاری مشاورتی عمل آج ایک اہم مرحلے میں داخل ہو جائے گا، جہاں مختلف آئینی، قانونی اور انتخابی تجاویز پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مہاجرین نشستوں کے مستقبل، ان کی تعداد میں ممکنہ ردوبدل، نئی حلقہ بندیوں اور انتخابی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں، آئینی ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل تیز کر دیا گیا ہے تاکہ ایک ایسا متفقہ حل سامنے لایا جا سکے جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مہاجرین نشستوں کے خاتمے، ان کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے یا نشستوں کی تعداد میں تبدیلی سمیت مختلف تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی طرح تناسبی نمائندگی کے نظام اور دیگر انتخابی اصلاحات سے متعلق سفارشات بھی غور کے لیے پیش کی جائیں گی۔
مشاورتی عمل کے دوران آئندہ انتخابات صرف آزاد کشمیر کے 33 حلقوں میں کرانے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ مہاجرین نشستوں کو برقرار رکھتے ہوئے محدود انتخابی اصلاحات کا آپشن بھی زیر غور ہے

سیاسی و آئینی ماہرین سے ابتدائی مشاورت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں اور متعلقہ حلقوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں مظفرآباد میں ہونے والی ملاقاتوں اور مشاورتی اجلاسوں میں بھی اس معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
دریں اثنا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت آج اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس بھی متوقع ہے، جس میں سیاسی اور سیکیورٹی قیادت شریک ہوگی۔ اجلاس میں مظفرآباد میں ہونے والی حالیہ مشاورت پر وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، طارق فضل چوہدری، امیر مقام، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر سمیت دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے آئینی اور انتخابی ڈھانچے سے متعلق جاری مشاورت آنے والے انتخابات کے خدوخال اور خطے کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی نظریں آج ہونے والی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔



