امریکہ ایران معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال

تہران (ایم این این): امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے پر دستخط کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کی بحالی سے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں بھی کمی آئی ہے۔

برینٹ خام تیل کی قیمت فروری کے اختتام کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی مارچ کے اوائل کے بعد کم ترین سطح تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق معاہدے کے بعد مارکیٹ میں شامل اضافی خطراتی عنصر ختم ہونا شروع ہو گیا ہے، جو جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنا تھا۔ تجزیہ کار فل فلائن نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی نے عالمی تیل کی ترسیل سے متعلق بڑے خدشات کو کم کر دیا ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مذاکراتی دور شروع ہو چکا ہے، جس دوران ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو بلا معاوضہ گزرنے کی اجازت دے گا۔ معاہدے کے مطابق 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک مکمل صلاحیت کے ساتھ بحال کی جائے گی۔

اگرچہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات کو آئندہ مذاکرات کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، تاہم اس میں ایران کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی تیاری بھی شامل ہے۔

گولڈمین سیکس کے مطابق خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات جولائی کے اختتام تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ سکتی ہیں، جبکہ تیل کی پیداوار اکتوبر تک معمول پر آنے کا امکان ہے۔

تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتیں فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح تک واپس نہیں آئیں گی کیونکہ عالمی طلب میں اضافہ اور سپلائی کی بعض رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ بی این پی پاریباس نے 75 ڈالر فی بیرل کو مستقبل قریب میں قیمتوں کی ممکنہ نچلی حد قرار دیا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایک ہی روز میں 12.5 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرا، جو تنازع شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ مقدار ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب آ گئی ہیں جبکہ امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت بھی پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن سے نیچے آ گئی ہے۔

امریکی ادارے اے اے اے کے مطابق جمعرات کو عام پٹرول کی اوسط قیمت 3.99 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی، جس سے صارفین کو کچھ ریلیف ملا ہے۔

جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی تھی کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے رپورٹ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی کھاد تجارت بھی شدید متاثر ہوئی۔ سال 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں کھاد کی عالمی تجارت میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز کی بحالی سے سپلائی چین بہتر ہوگی، تاہم کھاد کی منڈی میں مکمل بحالی کا عمل سست اور غیر مساوی رہ سکتا ہے اور قیمتیں کچھ عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں