بھارت کے 17 آبی منصوبے ’’ہائیڈرو ہیجمنی‘‘ کا ذریعہ بن سکتے ہیں

اسلام آباد (ایم این این): نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ کے نظام سے متعلق بھارت کے کم از کم 17 آبی منصوبے نئی دہلی کو پاکستان پر ’’ہائیڈرو ہیجمنی‘‘ یا آبی بالادستی قائم کرنے کے ذرائع فراہم کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ کے نظام سے متعلق بھارت کے کم از کم 17 آبی منصوبے نئی دہلی کو پاکستان پر ’’ہائیڈرو ہیجمنی‘‘ یا آبی بالادستی قائم کرنے کے ذرائع فراہم کر سکتے ہیں۔

برسلز میں پاکستان کے سفارت خانے اور سینٹر فار یورپین پالیسی اسٹڈیز کے زیر اہتمام ’’سرحد پار آبی وسائل: ایک ہتھیار بنائی جانے والی عالمی مشترکہ میراث‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کے حالیہ بیانات اور اقدامات نے خطے میں پانی کے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ قدرتی وسائل کے مؤثر انتظام کے لیے باہمی تعاون اور طے شدہ معاہدوں کا احترام ضروری ہے، بصورت دیگر یہ وسائل تنازعات اور دباؤ کے ہتھیار بن سکتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے بحران اکثر قلت سے زیادہ ناقص نظم و نسق کا نتیجہ ہوتے ہیں اور مشترکہ آبی وسائل امن اور علاقائی انضمام کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ پاکستان اور بھارت نے 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس نے دریائے سندھ کے چھ دریاؤں کے استعمال کے لیے ایک واضح فریم ورک فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ کئی جنگوں اور سیاسی کشیدگیوں کے باوجود قائم رہا اور اسے دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بھارتی منصوبوں پر اپنے تحفظات معاہدے میں موجود قانونی طریقہ کار کے تحت اٹھائے اور بین الاقوامی فیصلوں کا احترام کیا، چاہے وہ پاکستان کی توقعات کے مطابق نہ بھی ہوں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اب صورتحال زیادہ تشویشناک ہو گئی ہے کیونکہ بھارت نہ صرف سخت بیانات دے رہا ہے بلکہ ایسے اقدامات بھی کر رہا ہے جو پاکستان کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر ساولکوٹ، کرتھائی اور کوار پن بجلی منصوبوں، بگلیہار اور سلال ڈیموں کی توسیع اور دریائے سندھ، چناب اور راوی پر دیگر متبادل آبی منصوبوں کا حوالہ دیا۔

اسحاق ڈار کے مطابق ایسے کم از کم 17 منصوبے دریائی نظام کے قدرتی بہاؤ کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتے ہیں اور بھارت کو پانی کے بہاؤ پر غیر معمولی کنٹرول فراہم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دریا محض آبی گزرگاہیں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، معیشت اور بقا کا ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق 24 کروڑ پاکستانیوں کو پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش ایک بڑے انسانی اور ماحولیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

وزیر خارجہ نے زور دیا کہ پانی کو کبھی دباؤ یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اسے مشترکہ ذمہ داری اور پائیدار ترقی کی بنیاد سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کو مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے تحت حل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور یہی راستہ دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔

اسحاق ڈار نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، اس کے باوجود دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ معاہدوں کے تقدس کو برقرار رکھنے اور سرحد پار آبی وسائل کے منصفانہ انتظام کے لیے تعاون کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل قوموں کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں قریب لانے کا ذریعہ بننے چاہییں اور آبی حکمرانی کی بنیاد جبر نہیں بلکہ تعاون ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں