حج اپنے روحانی عروج پر، میدان عرفات میں لاکھوں عازمین کی حاضری، وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی امن کے لیے دعا

مکہ مکرمہ (ایم این این)- حج اپنے روحانی عروج پر پہنچ گیا جب لاکھوں عازمین نے تقریباً چودہ سو سال قبل حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میدان عرفات میں حاضری دی۔

خطبے کے بعد عازمین نے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر ادا کیں۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نماز اور خطبے میں اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی جن میں مکہ مکرمہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز اور مملکت کے مفتی اعظم شیخ صالح الفوزان شامل تھے۔

مسجد نمرہ حج کے مقدس مقامات میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا تھا۔ یہ مسجد جبل نمرہ کے نام پر منسوب ہے، عرفات کے شمال میں واقع ہے اور مسجد الحرام سے تقریباً بائیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مقدس مقامات کی دوسری بڑی مسجد شمار ہوتی ہے۔

مکہ جنرل ٹرانسپورٹ سینٹر نے اعلان کیا کہ عازمین کی عرفات منتقلی صبح سات بج کر چھپن منٹ پر مکمل ہوگئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دو گھنٹے پہلے تھی۔ عازمین کی نقل و حرکت شٹل بسوں، روایتی ذرائع آمدورفت اور المشاعر المقدسہ میٹرو کے ذریعے مکمل کی گئی۔

غروب آفتاب کے بعد عازمین مزدلفہ روانہ ہوگئے جہاں وہ رات گزاریں گے۔ صبح وہ کنکریاں جمع کرنے کے بعد منیٰ جائیں گے جہاں رمی جمرات کی ادائیگی کریں گے۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے یوم عرفہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان پوری دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے دعاگو ہے۔

انہوں نے بالخصوص حج ادا کرنے والے عازمین سمیت پوری امت مسلمہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اتحاد، قربانی اور اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں کو اپنانے پر زور دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یوم عرفہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکتیں حاصل کرنے کا عظیم موقع ہے جبکہ حج کا عظیم اجتماع امت مسلمہ کے اتحاد اور مشترکہ ذمہ داری کا عملی مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی قومی اور اجتماعی ترقی کا راز محبت، قربانی اور باہمی تعاون میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عازمین کا حج قبول فرمائے اور دنیا بھر میں امن، انصاف، رواداری اور بھائی چارہ مزید مضبوط ہو۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں