اسلام آباد(ایم این این) قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران سیاسی سرگرمیاں عروج پر رہیں، جہاں ایک جانب حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ملاقاتیں دیکھنے میں آئیں، تو دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپوزیشن بینچوں کا رخ کرتے ہوئے اہم سیاسی شخصیات سے ملاقات کی۔
اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے سے گرمجوشی سے ملاقات کی اور خیرسگالی کا اظہار کیا۔ بجٹ اجلاس کے پس منظر میں ہونے والی ان ملاقاتوں کو سیاسی حلقوں میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے، جہاں اتحادی جماعتیں قومی مفاد، آئینی تقاضوں اور معاشی استحکام کے ایجنڈے پر یکجا دکھائی دیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایوان میں آمد کے فوراً بعد اپوزیشن بینچوں کی جانب بڑھ گئے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق یہ ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں ہوئیں، جن میں بجٹ اجلاس، جاری قانون سازی، قومی معاملات اور مجموعی سیاسی منظرنامے پر بھی مشاورت کی گئی۔
پارلیمنٹ کی راہداریوں میں محسن نقوی کی اپوزیشن رہنماوں سے ہونیوالی اہم ملاقات زیر بحث ہے۔ اور کہا جا رہا ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم قومی مفاد کے معاملات میں رابطے اور مشاورت ہی سیاسی بلوغت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ بجٹ کی منظوری سے قبل حکومتی اتحادیوں کی باہمی ہم آہنگی اور اپوزیشن کے ساتھ براہِ راست رابطے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمے کا دروازہ کھلا رکھنا ناگزیر ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ رابطے جاری رہے تو اہم قومی معاملات پر اتفاقِ رائے کی فضا مزید مضبوط ہو سکتی ہے، جو جمہوری استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگی



