اسلام آباد (ایم این این) وزیراعظم آفس نے تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں، سرکاری اداروں اور خودمختار تنظیموں سے کفایت شعاری اقدامات پر عمل درآمد کی تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ رپورٹ میں یہ واضح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران کس ادارے نے کتنی بچت کی، کن اخراجات میں کمی لائی گئی اور حکومتی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتوں اور اداروں سے صرف دعوے نہیں بلکہ اعداد و شمار اور دستاویزی ثبوت بھی طلب کیے گئے ہیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ کفایت شعاری پالیسی پر عملی طور پر کتنا عمل درآمد ہوا۔
رپورٹس میں بجلی، ایندھن، دفتری اخراجات، سرکاری دوروں، گاڑیوں کے استعمال اور دیگر انتظامی امور میں کی جانے والی بچت کی مکمل تفصیلات شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس نے خصوصی طور پر 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے کے فیصلے کے اثرات جاننے کے لیے بھی تفصیلات طلب کی ہیں۔ متعلقہ اداروں کو یہ بتانے کا کہا گیا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں ایندھن، مرمت اور دیگر اخراجات کی مد میں کتنی بچت ہوئی۔
اسی طرح سرکاری دفاتر میں بجلی کے استعمال میں کمی کے حوالے سے بھی مکمل رپورٹ مانگی گئی ہے۔ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بجلی کے بلوں اور توانائی کے استعمال میں کمی کے حوالے سے اعداد و شمار فراہم کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آفس نے تمام اداروں کو رواں ماہ کے دوران ہی اپنی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ مجموعی جائزہ لے کر وزیراعظم کو پیش کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ پہلا آئینی ادارہ بن کر سامنے آیا ہے جس نے کفایت شعاری اقدامات کے نتیجے میں تقریباً ساڑھے چار ارب روپے کی بچت سے متعلق اپنی رپورٹ ارسال کر دی ہے۔
دوسری جانب دیگر وزارتوں، ڈویژنوں اور سرکاری اداروں میں بھی بچت مہم پر عمل درآمد کے اعداد و شمار مرتب کرنے کا عمل جاری ہے اور آئندہ چند روز میں مزید رپورٹس وزیراعظم آفس کو موصول ہونے کا امکان ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ان رپورٹس کی بنیاد پر یہ تعین کیا جائے گا کہ کفایت شعاری مہم کس حد تک کامیاب رہی اور کن اداروں نے حکومتی ہدایات پر مؤثر عمل درآمد کیا۔



