خامنہ ای نے تحفظات کے باوجود امریکہ ایران معاہدے کی منظوری دی، 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع

تہران (ایم این این): ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی منظوری اپنے ابتدائی تحفظات کے باوجود دی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کے حصول کے لیے ہر ممکن دباؤ اور ذریعہ استعمال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ان کی ذاتی رائے معاہدے کے بارے میں مختلف تھی، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے اراکین کی جانب سے ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے منظوری دے دی۔

خامنہ ای کے مطابق صدر پزشکیان نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر امریکہ نے مذاکرات کے دوران غیر ضروری یا حد سے زیادہ مطالبات کیے تو ایران انہیں قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اب ایرانی قوم اور قیادت اس بات کا انتظار کرے گی کہ معاہدے سے متعلق دی گئی یقین دہانیاں عملی طور پر کس حد تک پوری کی جاتی ہیں۔

سپریم لیڈر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات یا رابطے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران دشمن کے مؤقف یا پالیسیوں کو تسلیم کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ 60 روزہ مذاکراتی مدت کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کے لیے بحری آمدورفت پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ سینٹکام کے مطابق امریکی افواج اب خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے یا جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈال رہیں۔

تاہم سینٹکام نے کہا کہ امریکی بحریہ کے جہاز خطے میں موجود رہیں گے تاکہ معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک طریقے سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں