اسلام آباد (ایم این این)قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں فنانس بل 2026 پر شق وار غور و خوض جاری رکھا گیا۔ اجلاس میں ٹیکس اصلاحات، چھوٹ، درآمدی قواعد اور مالیاتی پالیسی سے متعلق اہم تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے تیسرے شیڈول میں مجوزہ توسیع پر غور کیا گیا، جس کے تحت 21 نئی کیٹیگریز میں سینکڑوں اشیاء کو مینوفیکچرنگ اسٹیج پر پرنٹڈ ریٹ کے مطابق ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز شامل ہے۔ اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے قیمتوں میں اضافہ اور مارکیٹ میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔
اسٹیشنری اشیاء پر ٹیکس سے متعلق بحث میں اراکین نے کہا کہ تعلیمی ضروریات، خصوصاً طلبہ کے استعمال کی بنیادی اشیاء کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جانا چاہیے۔ ایف بی آر نے بتایا کہ کاپیاں اور رجسٹرز ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گے جبکہ دیگر اسٹیشنری پر 10 فیصد رعایتی ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے حتمی فیصلے سے قبل تفصیلی ریونیو تخمینہ طلب کرلیا۔

پی آئی اے کی نجکاری کے تحت 15 سالہ سیلز ٹیکس چھوٹ کی تجویز پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اراکین نے کہا کہ کسی ایک ایئرلائن کو خصوصی رعایت دینا مسابقتی ماحول کو متاثر کرے گا۔ سیکرٹری ایوی ایشن نے وضاحت کی کہ یہ رعایت شیئر پرچیز ایگریمنٹ کا حصہ ہے۔
قائمہ کمیٹی نے زور دیا کہ ٹیکس پالیسی کو سیکٹر نیوٹرل ہونا چاہیے اور کسی ایک ادارے کو غیر معمولی فائدہ نہیں دینا چاہیے۔ اراکین نے حکومت پر زور دیا کہ تمام شعبوں میں برابری کی بنیاد پر پالیسی اپنائی جائے۔
اجلاس میں ڈیجیٹل ٹیکسیشن، فیس لیس اسیسمنٹ، الگورتھمک سیٹلمنٹ اور انڈیپنڈنٹ کیس اسکرونٹی کمیٹی کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔ اراکین نے جدید اصلاحات کی حمایت کے ساتھ شفافیت اور قانونی تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے لائف انشورنس پالیسیوں کے ابتدائی چار سال میں سرنڈر پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کی بھی حمایت کی۔
قائمہ کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کا مقصد صرف ریونیو نہیں بلکہ سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ دینا بھی ہونا چاہیے۔
کمیٹی نے پارلیمانی بالادستی کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس کے اختیارات ایگزیکٹو کو دینے سے اجتناب کیا جائے۔



