اسلام آباد(ایم این این) وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنی کثیر جہتی شراکت داری کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
وزیراعظم نے یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، سلامتی، ہجرت، پائیدار ترقی اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور یورپی یونین کے مضبوط تجارتی تعلقات میں جی ایس پی پلس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سہولت پاکستان کی برآمدات اور اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ملاقات کے دوران خطے اور دنیا کی مجموعی صورتحال بھی زیر غور آئی۔ وزیراعظم نے خلیجی خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت پر یورپی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری اور یورپی یونین کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم نے جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال اور افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بھی یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کے سامنے رکھا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لاین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہے۔
سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کے نئے باب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف اقتصادی تعاون بلکہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو بھی مزید تقویت ملے گی۔



