پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، عالمی رہنماؤں کا خیرمقدم

واشنگٹن/تہران/اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کے بعد دنیا بھر میں مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کی قیادت اور عالمی رہنماؤں نے اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد امریکہ پہلے سے زیادہ مضبوط، محفوظ اور باوقار ملک بن گیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ تیل کی فراہمی بحال ہو رہی ہے، معیشت مضبوط ہے، روزگار کے مواقع ریکارڈ سطح پر ہیں اور ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

صدر ٹرمپ نے ان ناقدین کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے بقول ایران کے حوالے سے ان کی پالیسی کو نرم قرار دیتے ہیں، اور کہا کہ ایسے افراد حقائق کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے کو ’’تاریخی دستاویز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ کے خاتمے اور مستقبل کے مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ معاہدے پر ان کے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم شہباز شریف کے دستخط موجود ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قبرص کے وزیر خارجہ کانسٹنٹینوس کومبوس سے گفتگو میں امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ بین الاقوامی تعاون اور اقتصادی روابط کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔

ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران نے مذاکرات میں طاقت کے مقام سے شرکت کی۔ ان کے مطابق ایران کی عسکری کامیابیوں نے مذاکرات کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ دراصل امریکہ کی ناکامی کا ریکارڈ ہے اور تاریخ اس کا فیصلہ کرے گی۔

پاکستان نے اس سفارتی پیش رفت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا کیونکہ معاہدے پر دستخط آن لائن مکمل ہو چکے تھے۔

معاہدے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا۔ وزیر اعظم نے ایرانی قیادت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن کی بحالی، ایران کی تعمیر نو اور پاکستان ایران تعلقات کے مزید فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق ایرانی صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مخلصانہ اور مؤثر ثالثی نے معاہدے کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

قطر نے بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور پرامن ذرائع کے عزم کی تجدید قرار دیا۔ دوحہ نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے معاہدے کو تنازع کے مستقل خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیا جبکہ چین نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور مذاکرات کے اگلے مرحلے کو کامیاب بنائیں۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے اور دنیا کے لیے تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

دوسری جانب امریکی میڈیا کے بعض حلقوں نے معاہدے پر تنقید بھی کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کو بڑے معاشی فوائد دیے ہیں جبکہ تہران کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے کی ضمانت حاصل نہیں کی گئی۔

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے معاہدے کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مستقبل کے مذاکرات کو صرف باہمی سلامتی اور لبنانی خودمختاری تک محدود رکھنے پر زور دیا۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو اب ایک جامع اور مستقل امن معاہدے کی بنیاد تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات کے نئے دور کی تیاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں