پمز ہسپتال میں خاتون ملازمہ کو مبینہ ہراسانی کا سامنا، انتظامیہ اور پولیس کی بروقت کارروائی، ملزم گرفتار

اسلام آباد(ایم این این)وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری طبی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ایک خاتون ملازمہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے سنگین معاملے میں پمز انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ایک خاتون ملازمہ گزشتہ تقریباً آٹھ ماہ سے مسلسل ذہنی اذیت اور خوف کا شکار تھی۔ الزام ہے کہ ہسپتال کا ایک نائب قاصد مختلف طریقوں سے خاتون کو ہراساں کرتا رہا، جس کے باعث متاثرہ خاتون شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی میں مبتلا ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق معاملہ پمز انتظامیہ کے نوٹس میں آنے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے فوری طور پر حقائق جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دورانِ تحقیقات تمام دستیاب شواہد، بیانات اور متعلقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ انکوائری کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں متاثرہ خاتون کے تحفظ اور انصاف کو ترجیح دی گئی۔

ذرائع کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر اپنے خلاف کارروائی رکوانے کے لیے مختلف کوششیں بھی کیں، تاہم پمز انتظامیہ نے کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا اور معاملے کو قانون کے مطابق آگے بڑھایا۔

دوسری جانب تھانہ کراچی کمپنی کے ایس ایچ او ندیم طاہر نے شکایت موصول ہونے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے میرٹ پر کارروائی کی جا رہی ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی حلقوں نے اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اداروں میں خواتین کو محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرنا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہراسمنٹ جیسے واقعات نہ صرف متاثرہ فرد کی ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اداروں کے مجموعی ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

متاثرہ خاتون کے حق میں آواز اٹھانے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ محکمانہ سطح پر بھی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ملزم کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ملازم کو ایسے واقعات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں