چکوال میں بچی کی فائرنگ کے واقعے میں سی سی ڈی کی “سنگین غفلت” کا اعتراف، شفاف تحقیقات کا اعلان

لاہور (ایم این این): پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے چکوال میں رواں ماہ پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں سنگین کوتاہی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کا کسی بھی صورت میں دفاع یا پردہ پوشی نہیں کی جائے گی۔

حکام نے اس واقعے کو سنگین غفلت کا کیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ مناسب تربیت نہ ہونے کے باعث سی سی ڈی اہلکار صورتحال کو درست طور پر سمجھنے میں ناکام رہا۔ واقعے میں نو سالہ ہانیہ جاں بحق ہو گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوئے جب سی سی ڈی اہلکاروں نے چکوال میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کی اور اسے مبینہ ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ لیا۔

پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس عبدالکریم نے پریس کانفرنس میں واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے مکمل اور آزادانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ غفلت کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا اور ذمہ داران کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

پنجاب سی سی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ پولیس ادارے کے لیے عوامی اعتماد انتہائی اہم ہے اور اس واقعے سے سی سی ڈی اور پنجاب پولیس دونوں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ اس سنگین غفلت سے سبق سیکھا جائے اور اندرونی خامیوں کو دور کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ اہلکار نے تربیت کی کمی کے باعث صورتحال کا درست اندازہ نہیں لگایا، جو ایک بڑی غلطی تھی، اور اس بات پر زور دیا کہ ادارے میں تربیت اور صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ تربیتی خامیوں کو دور کرنے اور نظام بہتر بنانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس غفلت کا کسی صورت دفاع نہیں کیا جائے گا اور متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیا گیا ہے۔ گرفتار اہلکار کو کسی رعایت کے بغیر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گرفتار اہلکاروں کا چالان ایک ہفتے کے اندر مکمل کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یہ پریس کانفرنس آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کی جانب سے ہانیہ کے قتل کی شفاف تحقیقات کے مطالبے کے بعد کی گئی، جنہوں نے کہا تھا کہ حقائق کو کھلے انداز میں جانچا جانا چاہیے اور متاثرہ خاندان سے ہمدردی اور پاکستانی نژاد آسٹریلوی کمیونٹی سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں