اسلام آباد (ایم این این)؛ پاکستان کی مغربی سرحد پر دہشت گردی اور سرحد پار دراندازی کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے مبینہ طور پر تقریباً 800 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کیے، جن میں تقریباً 200 ٹی ٹی پی دہشت گرد مارے گئے۔
فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں 48 افغان باشندے یا افغان روابط اور افغانستان میں موجود مبینہ نیٹ ورکس سے وابستہ عناصر بھی شامل تھے۔
یہ کارروائیاں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف حساس علاقوں میں کی گئیں، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مبینہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے، سرحدی دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے اور شدت پسند گروہوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
پاکستانی سیکیورٹی حلقے ہلاک ہونے والے افراد میں افغان باشندوں کی مبینہ موجودگی کو پاکستان کے ان دیرینہ خدشات سے جوڑ رہے ہیں کہ بعض دہشت گرد گروہ سرحد پار محفوظ ٹھکانوں اور نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں کارروائیوں کی کوشش کرتے ہیں۔
شمالی و جنوبی وزیرستان میں بڑی کارروائیاں
اعداد و شمار کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تقریباً 230 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران 62 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 16 افغان باشندوں کی موجودگی بھی رپورٹ کی گئی۔
افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع اپنی دشوار گزار جغرافیائی صورتحال اور ماضی میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد گروہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور سرحدی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہونے اور سیکیورٹی فورسز و شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
باجوڑ اور مہمند میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان
فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق باجوڑ اور مہمند میں تقریباً 180 آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں 55 دہشت گرد مارے گئے۔ ان میں 13 افغان باشندے بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
باجوڑ اور مہمند دونوں اضلاع افغانستان کی سرحد سے ملحق ہیں اور ماضی میں دہشت گردی اور شدت پسند سرگرمیوں سے متاثر رہے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خاتمے، سہولت کاروں کی شناخت اور مسلح گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنے کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
خیبر اور اورکزئی میں 160 آپریشنز
خیبر اور اورکزئی کے اضلاع میں تقریباً 160 آپریشنز کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جن میں 46 دہشت گرد مارے گئے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 11 افغان باشندے بھی شامل تھے۔
خیبر ضلع افغانستان کی سرحد اور اہم سرحدی گزرگاہوں کے قریب واقع ہونے کے باعث خصوصی تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اس علاقے میں مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں، نقل و حرکت اور دراندازی کی کوششوں پر مسلسل نظر رکھتی ہیں۔
بلوچستان سیکٹر میں بھی کارروائیاں تیز
بلوچستان کے ژوب، پشین اور کوئٹہ کے علاقوں میں تقریباً 140 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران 37 دہشت گرد مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ان میں آٹھ افغان باشندے بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
بلوچستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشت گردی اور شدت پسندانہ حملوں کے واقعات میں اضافے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
مبینہ دہشت گرد گروہوں کو سیکیورٹی اہلکاروں، شہریوں، تنصیبات اور ترقیاتی منصوبوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی سے روکنے کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سرحد پار دہشت گردی پر پاکستان کے تحفظات
پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت کے ساتھ سرحد پار دہشت گردی اور کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کا معاملہ اٹھاتا رہا ہے۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی کے بعض عناصر افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور سرحد پار حملوں کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسری جانب افغان طالبان انتظامیہ ماضی میں ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور اس بات سے انکار کرتی ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دیا جا رہا ہے۔
تاہم، حالیہ کارروائیوں میں افغان باشندوں کی مبینہ شمولیت نے پاکستان کے سرحد پار دہشت گردی سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا رہا ہے۔
اس صورتحال کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اضافہ کیا ہے، جن کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا، ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا، دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانا اور مسلح گروہوں کی کارروائیوں کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
پاکستانی حکام متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ ملک کی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گرد کارروائی یا سرحد پار خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تازہ کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان نے اپنی مغربی سرحد پر سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں اور دہشت گردی، دراندازی اور مسلح نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش جاری ہے۔
سیکیورٹی حلقوں کے مطابق پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور ملک کے اندر یا سرحد پار سے پیدا ہونے والے ہر سیکیورٹی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔



