پمز سانحہ: تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،حادثہ انتظامی غفلت قرار

اسپتال میں سہولیات کا فقدان،حفاظتی اقدامات پر اہم انکشافات، زمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی سفارش

اسلام آباد : ایم این این

پمز آتشزدگی سانحے کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی، ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ سابق بیوروکریٹ شاہد خان نے عبوری رپورٹ وزیراعظم کے مشیر کی زریعے پی ایم آفس کو پہنچائی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے دستیاب شواہد، سرکاری ریکارڈ، متعلقہ افسران اور حکام کے بیانات کی روشنی میں رپورٹ مرتب کی۔

تحقیقات میں بنیادی سوال یہ رکھا گیا کہ پمز سانحہ محض ایک حادثہ تھا یا اس کے پیچھے انتظامی غفلت اور حفاظتی اقدامات میں ناکامی بھی کارفرما تھی۔

کمیٹی نے واقعے سے متعلق متعدد متعلقہ افسران اور حکام کے بیانات ریکارڈ کیے، جبکہ فراہم کیے گئے شواہد میں ویڈیو ریکارڈ بھی شامل کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پمز سانحے کے وقت کی چند سیکنڈ پر مشتمل ایک ویڈیو کلپ بھی تحقیقاتی کارروائی کا حصہ بنائی گئی، جس میں بلاسٹ کے لمحات دیکھے جاسکتے ہیں۔

ذمہ داروں کے تعین کے لیے بیانات، ویڈیو شواہد، سرکاری ریکارڈ اور دیگر دستیاب ثبوت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

تحقیقات میں انتظامی غفلت، حفاظتی انتظامات، ایس او پیز پر عملدرآمد اور واقعے کے وقت متعلقہ عملے کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے اس اہم سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ بچوں کی حفاظت کے لیے مقررہ حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوسکا اور واقعے کے وقت متعلقہ عملے نے اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کیں۔

تحقیقاتی عمل کے دوران ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی انتظامی صلاحیت اور اسپتال کے اندرونی انتظامی حالات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں اسپتال کی بہتری سے متعلق ماضی میں دی گئی تجاویز پر عملدرآمد نہ ہونے کے معاملات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں اسپتال میں انتظامی نااہلی کے اثرات کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اسپتال کے مخدوش انتظامی حالات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے پمز میں بدانتظامی کا سخت نوٹس لینے پر زور دیا، جبکہ پمز کے سربراہ کو بھی انتظامی نااہلی کے حوالے سے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے متعلقہ عملے کے کردار کا بھی تعین کیا گیا اور ذرائع کے مطابق غیر حاضر عملے کو بھی مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

کمیٹی رپورٹ میں اسپتال کے متاثرہ بلاک کے تعمیراتی نقائص اور اس حوالے سے دستیاب شواہد کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی ہے، جبکہ حتمی کارروائی تحقیقاتی رپورٹ اور دستیاب شواہد کی روشنی میں کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کو شفاف تحقیقات کے لیے مکمل آزادی کے ساتھ اپنا کام کرنے دیا گیا اور کسی شخص کو محض الزام یا دباؤ کی بنیاد پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جائے گا۔

اب وزیراعظم کی جانب سے رپورٹ کے جائزے اور سفارشات کی روشنی میں آئندہ کے لائحہ عمل اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ متوقع ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں