تہران/مسقط (ایم این این)؛ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سمیت مشرق وسطیٰ کے اہم بحری راستوں میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں، جبکہ برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب جا پہنچا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے سے منسلک بحری اور فوجی اہداف پر جوابی کارروائیوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سے خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 89 سینٹ، یا 0.92 فیصد اضافے کے ساتھ 97.17 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ اس سے قبل قیمت 97.93 ڈالر تک گئی، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح تھی۔
بعد کی ٹریڈنگ میں برینٹ کی قیمت مزید بڑھ کر 97.31 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ایک موقع پر اس نے 98.06 ڈالر کی سطح بھی چھو لی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، یعنی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی چھ ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہا۔ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 1.17 ڈالر یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 92.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ دورانِ ٹریڈنگ یہ 93.29 ڈالر تک بھی گئی۔
ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ایران کی جانب سے یہ انتباہ بھی ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی مفادات یا اثاثوں پر مزید حملے کیے تو ایران مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایرانی انتباہات اور ممکنہ فوجی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ دنیا کی تیل اور گیس کی سپلائی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کی ترسیل شدید متاثر
آبنائے ہرمز کو دنیا کے اہم ترین توانائی بحری راستوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملاتا ہے۔
اس اہم آبی گزرگاہ میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی ترسیل میں نمایاں کمی رپورٹ کی گئی ہے۔
دستیاب اعدادوشمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے روزانہ گزرنے والے تیل کی مقدار 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں تقریباً 2 کروڑ 16 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر 2026 کی دوسری سہ ماہی میں تقریباً 49 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی۔
خام تیل بردار ٹینکروں کی آمدورفت مبینہ طور پر 66 سے کم ہو کر صرف 4 ٹرانزٹ تک پہنچ گئی۔
ایل این جی کی صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین رہی، جہاں ایل این جی بردار جہازوں کی آمدورفت 16 سے کم ہو کر صفر تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کے باعث شپنگ کمپنیاں اور توانائی کے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں شدید احتیاط کر رہے ہیں۔
باب المندب کے راستے تیل کی ترسیل میں اضافہ
آبنائے ہرمز میں مشکلات کے باعث توانائی کمپنیوں اور شپنگ آپریٹرز نے متبادل راستوں پر انحصار بڑھا دیا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق باب المندب کے راستے تیل کی ترسیل 2026 کی دوسری سہ ماہی میں بڑھ کر تقریباً 81 لاکھ بیرل یومیہ ہو گئی۔
یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی توانائی کمپنیاں خطرناک علاقوں سے بچنے اور سپلائی برقرار رکھنے کے لیے متبادل بحری راستوں کو استعمال کر رہی ہیں۔
ایران اور عمان محفوظ بحری راستے کے معاہدے کے قریب
دوسری جانب ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے ایک عارضی محفوظ بحری راستہ قائم کرنے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور مسقط کے درمیان محفوظ راستوں کے تعین کے لیے مذاکرات آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پانے کا امکان ہے، جس کے بعد اسے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں رجسٹر کرایا جا سکتا ہے۔
بقائی نے امید ظاہر کی کہ بعض عناصر اس عمل میں مداخلت نہیں کریں گے۔
اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی بحالی اور عالمی توانائی مارکیٹ میں اعتماد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایران کا امریکا پر شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام
ایران اور امریکا کے درمیان سیاسی اور فوجی کشیدگی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایران میں فوجی کارروائیوں کے دوران شہری اہداف کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔
اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے امریکا پر بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی کارروائیوں کے لیے واشنگٹن کو جواب دہ ٹھہراتا رہے گا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بقائی نے شہری ہلاکتوں کو اتفاقی نقصان قرار دینے کے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مبینہ طور پر دانستہ حملے قرار دیا۔
انہوں نے سیرک جزیرے میں ایک شادی کی تقریب، مناب کے ایک اسکول اور لامرد کے ایک اسٹیڈیم پر مبینہ امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جدید اور انتہائی درست ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود شہری مقامات کی شناخت کیوں نہیں کی گئی۔
امریکا نے مذکورہ ایرانی الزامات کو ان رپورٹس میں تسلیم نہیں کیا۔
امریکا کا دعویٰ: آبنائے ہرمز کھلی اور بحری نگرانی میں ہے
دوسری جانب ایک سینئر امریکی عہدیدار نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور امریکی بحریہ کی نگرانی میں ہے۔
یہ بیان ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک محدود زون قائم کرنے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی بحریہ نے اپریل سے آبنائے ہرمز میں ایک خفیہ مائن کلیئرنس آپریشن جاری رکھا ہوا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خصوصی آپریشنز سے وابستہ اہلکاروں نے جدید تکنیک کے ذریعے تقریباً 80 بحری بارودی سرنگیں صاف کیں۔
عہدیدار کے مطابق اس کارروائی کے بعد سمندری راستہ نسبتاً محفوظ ہوا ہے اور مستقبل میں تجارتی جہاز رانی میں اضافے کی توقع ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی موجودہ ترسیل سے مطمئن ہیں۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے اس وقت تقریباً 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل گزر رہا ہے۔
ایران جنگ نے امریکی صارفین پر 100 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ ڈال دیا
ایران جنگ کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ امریکا میں بھی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث صارفین کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے ایک ریئل ٹائم اندازے کے مطابق، جسے ایکسیوس نے رپورٹ کیا، ایران جنگ کے نتیجے میں امریکی صارفین کو توانائی کی اضافی قیمتوں کی مد میں تقریباً 100 ارب ڈالر کا بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔
ایران وار انرجی کاسٹ ٹریکر کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی خاندانوں کو پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے اوسطاً 760 ڈالر سے زائد اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اضافی توانائی اخراجات میں ٹیکساس سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں صارفین پر تقریباً 11 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا۔
اس کے بعد کیلیفورنیا میں تقریباً 8 ارب ڈالر اور فلوریڈا میں تقریباً 5 ارب ڈالر اضافی توانائی اخراجات رپورٹ کیے گئے۔
عالمی توانائی مارکیٹ پر نظریں آبنائے ہرمز پر مرکوز
موجودہ صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔
برینٹ خام تیل کے 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے کے بعد سرمایہ کار اور عالمی منڈیاں اب آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی صورتحال، ایران اور عمان کے ممکنہ محفوظ بحری راستے کے معاہدے اور امریکا و ایران کے درمیان مزید فوجی کشیدگی کے امکانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز سے تیل اور ایل این جی کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات پٹرول، ڈیزل، گیس اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔



