پاکستان نے سات ماہ میں 286 انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے، 53 مفرور بیرون ملک سے گرفتار

اسلام آباد (ایم این این)؛ پاکستان کے نیشنل سینٹرل بیورو (این سی بی) انٹرپول نے گزشتہ سات ماہ کے دوران سنگین جرائم میں مطلوب مفرور ملزمان کی گرفتاری اور واپسی کے لیے 286 ریڈ نوٹس جاری کیے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور، جو این سی بی انٹرپول پاکستان کے سربراہ بھی ہیں، کے مطابق ریڈ نوٹس قتل، فراڈ، دہشت گردی، اغوا، انسانی اسمگلنگ اور دیگر سنگین جرائم میں مطلوب افراد کو تلاش کرنے کے لیے جاری کیے گئے۔

انٹرپول کا ریڈ نوٹس رکن ممالک کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے کسی مطلوب شخص کو تلاش کرنے اور ملکی قوانین کے تحت عارضی طور پر گرفتار کرنے کی درخواست ہوتی ہے تاکہ حوالگی یا دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

تاہم ریڈ نوٹس خود کوئی بین الاقوامی گرفتاری وارنٹ نہیں ہوتا بلکہ جس ملک میں مطلوب شخص موجود ہو، وہاں کے حکام اپنے ملکی قوانین کے مطابق گرفتاری اور دیگر کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں۔

سات ماہ میں مجموعی طور پر 290 انٹرپول نوٹس جاری

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق سات ماہ کے دوران این سی بی انٹرپول پاکستان نے مجموعی طور پر 290 انٹرپول نوٹس جاری کیے۔

ان میں 286 ریڈ نوٹس، دو بلیو نوٹس اور دو یلو نوٹس شامل تھے۔

ریڈ نوٹس میں سب سے زیادہ تعداد قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمات میں مطلوب افراد کی تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق 225 ریڈ نوٹس قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمات میں مطلوب ملزمان کے خلاف جاری کیے گئے۔

مزید 33 ریڈ نوٹس اغوا، بدعنوانی، ڈکیتی اور سائبر کرائم کے مقدمات میں مطلوب افراد کے لیے جاری کیے گئے۔

مالی فراڈ اور دھوکا دہی کے مقدمات میں 19 ریڈ نوٹس جاری ہوئے، جبکہ چھ نوٹس انسانی اسمگلنگ اور تین دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں جاری کیے گئے۔

53 مفرور بیرون ملک سے گرفتار اور پاکستان منتقل

بین الاقوامی تعاون کے نتیجے میں اسی سات ماہ کے عرصے کے دوران پاکستان میں سنگین جرائم کے مقدمات میں مطلوب 53 مفرور افراد کو مختلف ممالک سے گرفتار کر کے پاکستان واپس لایا گیا۔

ان افراد کی گرفتاری اور حوالگی میں انٹرپول کے عالمی نیٹ ورک اور مختلف ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون نے اہم کردار ادا کیا۔

یہ کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کسی سنگین جرم کے بعد بیرون ملک فرار ہونے والے ملزمان کو تلاش کرنے اور قانونی کارروائی کے لیے پاکستان عالمی پولیس تعاون کے نظام سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

قتل کے مقدمات میں سب سے زیادہ ریڈ نوٹس

اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریڈ نوٹس جاری کرنے کی سب سے بڑی وجہ قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمات ہیں۔

مجموعی 286 ریڈ نوٹس میں سے 225 قتل اور اقدامِ قتل کے ملزمان کے خلاف جاری ہوئے۔

اس کے بعد اغوا، کرپشن، ڈکیتی اور سائبر کرائم کے مقدمات کا نمبر آتا ہے۔

مالی فراڈ کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی رجحان کے پیش نظر ان مقدمات میں بھی انٹرپول تعاون اہم ہوتا جا رہا ہے، جبکہ انسانی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے مقدمات میں سرحد پار معلومات اور ملزمان کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

ریڈ، بلیو اور یلو نوٹس کیا ہیں؟

انٹرپول مختلف نوعیت کے نوٹس جاری کرتا ہے تاکہ دنیا بھر کی پولیس فورسز ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ اور قانونی تعاون کر سکیں۔

ریڈ نوٹس کسی ایسے شخص کو تلاش کرنے اور قانون کے مطابق عارضی طور پر گرفتار کرنے کی درخواست ہوتی ہے جو کسی ملک میں مقدمے یا سزا کے لیے مطلوب ہو۔

بلیو نوٹس کسی شخص کی شناخت، مقام یا سرگرمیوں سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یلو نوٹس لاپتا افراد، بالخصوص بچوں، کو تلاش کرنے یا ایسے افراد کی شناخت میں مدد کے لیے جاری کیا جاتا ہے جو اپنی شناخت بتانے سے قاصر ہوں۔

این سی بی انٹرپول کا کردار

ہر رکن ملک میں نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول بین الاقوامی پولیس تعاون کے لیے مرکزی رابطہ ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔

پاکستان کا این سی بی انٹرپول ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیگر ممالک کے متعلقہ اداروں اور انٹرپول جنرل سیکریٹریٹ سے منسلک کرتا ہے۔

یہ تعاون انٹرپول کے محفوظ عالمی پولیس مواصلاتی نظام I-24/7 کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس کے تحت متعلقہ اداروں کو عالمی پولیس ڈیٹا بیس اور دیگر خدمات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق پاکستانی ادارے اپنی تحقیقات کے لیے دیگر ممالک کے این سی بی سے معلومات حاصل کرتے ہیں، جبکہ پاکستان بھی دیگر ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مجرمانہ معلومات شیئر کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی جرم ملکی حدود سے باہر نکل جاتا ہے تو اس کی تحقیقات اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہو جاتا ہے، اور انٹرپول اس تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

سائبر کرائم اور منظم جرائم کے خلاف تعاون

ایف آئی اے حکام کے مطابق موجودہ دور میں جرائم کی نوعیت تیزی سے بین الاقوامی ہو رہی ہے۔ سائبر کرائم، مالی فراڈ، انسانی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس ایک سے زیادہ ممالک میں سرگرم ہو سکتے ہیں۔

ایسے حالات میں نیشنل سینٹرل بیوروز مختلف ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے، تحقیقات، گرفتاریوں اور حوالگی کے عمل کو مربوط کرتے ہیں۔

ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ پاکستان علاقائی سطح پر بھی تعاون بڑھا رہا ہے تاکہ مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک اپنے وسائل اور معلومات کو مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں۔

ان کے مطابق پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی استعداد بڑھانے کے لیے تربیتی پروگرام بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ انٹرپول کے ڈیٹا بیس اور دستیاب آلات کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔

مفرور ملزمان کو بیرون ملک محفوظ پناہ گاہ نہیں ملے گی، ایف آئی اے

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ این سی بی انٹرپول پاکستان اس عزم پر قائم ہے کہ پاکستان میں سنگین جرائم میں مطلوب کوئی مفرور شخص بیرون ملک محفوظ پناہ گاہ حاصل نہ کر سکے۔

رواں سال اپریل میں نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کے مطابق انٹرپول نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ریاض کے خلاف بھی ریڈ نوٹس جاری کیے تھے۔

اسی طرح نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے گزشتہ ماہ مبینہ ’’Tycoon2FA سائبر کرائم نیٹ ورک‘‘ سے وابستہ دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور نیٹ ورک کے مزید چار مبینہ ارکان کے خلاف ریڈ نوٹس حاصل کرنے کا عمل شروع کیا۔

تازہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان سنگین جرائم میں مطلوب افراد کی تلاش، گرفتاری اور ملک واپسی کے لیے بین الاقوامی پولیس تعاون پر انحصار مزید بڑھا رہا ہے، جبکہ سائبر اور منظم جرائم کے پھیلاؤ کے باعث عالمی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں