امریکی پبلک سیکٹر مارکیٹ تک پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی رسائی، ٹریننگ پروگرام کا پہلا بیچ کامیابی سے مکمل

اسلام آباد ایم این این :

وزارتِ آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے اشتراک سے امریکی اسٹیٹ، لوکل اور ایجوکیشن پروکیورمنٹ مارکیٹ تک پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی رسائی کے لیے شروع کیے گئے SLED ٹریننگ پروگرام کے پہلے بیچ کی گریجویشن تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔نیشنل انکیوبیشن سینٹر میں منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، پی ایس ای بی حکام، آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں اور صنعت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کی معاونت سے کولیب پی اور ریڈ مارکر سسٹمز کے اشتراک سے مکمل کیا گیا۔
چھ ہفتوں پر مشتمل تربیتی پروگرام میں 74 پاکستانی کمپنیوں کو امریکی خریداری کے نظام، ریگولیٹری تعمیل، مارکیٹ انٹیلیجنس اور سرکاری کنٹریکٹس کے حصول سے متعلق 76 ماڈیولز پر تربیت دی گئی۔ پروگرام کے دوران 140 سے 150 تربیتی گھنٹے مکمل کیے گئے جبکہ اس منصوبے پر 6.9 ملین روپے لاگت آئی۔


تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق تمام تربیتی پروگراموں کو روزگار اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق SLED پروگرام پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرے گا اور امریکی مارکیٹ میں نئی راہیں کھولے گا۔
وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ٹریننگ صرف سرٹیفکیٹ تک محدود نہ رہے بلکہ نوجوانوں اور کمپنیوں کو براہ راست عالمی مارکیٹ میں کاروباری مواقع فراہم کرے۔
حکام کے مطابق امریکی SLED مارکیٹ کا حجم سالانہ تقریباً 1.85 ٹریلین ڈالر ہے، جہاں 90 ہزار سے زائد سرکاری ادارے ہر سال پانچ لاکھ سے زیادہ خریداری کے مواقع جاری کرتے ہیں۔ پاکستانی کمپنیوں کو کلاؤڈ مائیگریشن، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، ایجوکیشن ٹیک اور ڈیجیٹل ہیلتھ سمیت مختلف شعبوں میں مواقع میسر آئیں گے۔
کولیب پی کے سی ای او فرحان ایثار شاہ کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام پاکستانی کمپنیوں کو روایتی آؤٹ سورسنگ سے آگے لے جا کر امریکی پبلک سیکٹر کی ہائی ویلیو سپلائی چینز کا حصہ بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
پی ایس ای بی کے مطابق تربیت مکمل کرنے والی کمپنیوں نے پہلے ہی 22.8 ملین امریکی ڈالر مالیت کی ممکنہ ایکسپورٹ پائپ لائن تیار کر لی ہے، جبکہ مستقبل میں اس پروگرام کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں عالمی سرکاری مارکیٹوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں