آج نیوز خود ساختہ بدحالی کا شکار، ملازمین نے ہڑتال کر دی۔اہم نیوز بلیٹن بھی آن ایئر نہ ہو سکا

اسلام آباد: ایم این این


پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کا خود ساختہ بحران وقت گزرنے کے ساتھ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ایک کے بعد ایک نیوز چینل مالی مشکلات کا رونا رو رہے ہیں، مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس بحران کی قیمت آخر صرف صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ہی کیوں ادا کرنا پڑ رہی ہے؟اطلاعات کے مطابق
کراچی میں آج نیوز کے ملازمین نے کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر قلم چھوڑ ہڑتال کر دی۔ ملازمین کے مطابق انہیں اپریل، مئی اور جون 2026 کی تنخواہیں تاحال ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث پہلی مرتبہ چینل کا سہ پہر تین بجے کا اہم نیوز بلیٹن بھی آن ایئر نہ ہو سکا۔ ہڑتال کے دوران نیوز بلیٹن کی جگہ صرف پروموز اور اشتہارات نشر کیے جاتے رہے۔
احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب ان کے پاس دفتر آنے کے لیے کرایہ تک موجود نہیں، گھروں میں راشن ختم ہو رہا ہے، بچوں کی فیسیں ادا نہیں ہو رہیں اور کئی ملازمین شدید ذہنی دباؤ اور معاشی پریشانی کا شکار ہیں۔
ملازمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بحران صرف موجودہ عملے تک محدود نہیں بلکہ ڈاؤن سائزنگ کے دوران فارغ کیے گئے متعدد ملازمین بھی آج تک اپنے بقایا جات، گریجویٹی اور دیگر قانونی واجبات کی ادائیگی کے منتظر ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود نہ بقایا تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور نہ ہی گریجویٹی اور دیگر مالی حقوق ادا کیے جا رہے ہیں۔
*اب سوال براہِ راست آج نیوز کی انتظامیہ اور مالکان سے ہے*
اگر ایک میڈیا ادارہ کئی کئی ماہ تک اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کر سکتا تو اس کی مالی منصوبہ بندی کہاں ہے؟
اگر کاروبار خسارے میں ہے تو کیا اس کا تمام بوجھ صرف رپورٹر، پروڈیوسر، کیمرہ مین، ویڈیو ایڈیٹر، انجینئرز اور دیگر ملازمین ہی اٹھائیں گے؟
کیا مالکان نے کبھی اپنی مراعات، اخراجات اور انتظامی فیصلوں کا بھی احتساب کیا؟

اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جو صحافی دن رات عوام کے حقوق کی آواز بنتے ہیں، ان کے اپنے حقوق کی حفاظت کون کرے گا؟
ملازمین کا مؤقف ہے کہ ادارے کے مالکان آصف زبیری، احمد زبیری اور شہاب زبیری کے ذاتی معاملات اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں، لیکن جب ملازمین کی تنخواہوں کی بات آتی ہے تو صرف مالی مشکلات کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ ملازمین کا مزید دعویٰ ہے کہ حکومت سے مختلف واجبات کی مد میں حاصل ہونے والی رقوم بھی ملازمین کی تنخواہوں اور بقایا جات کی ادائیگی کے لیے استعمال نہیں کی جاتیں، جبکہ ادارے کے اندرونی انتظامی اور خاندانی اختلافات کا نقصان بھی ملازمین کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ادارے کے پاس اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہیں اور قانونی واجبات ادا کرنے کی صلاحیت نہیں تو پھر ایسے ادارے کے مستقبل اور اس کی انتظامی حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھنا فطری ہیں۔
ملازمین نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، انتظامیہ کو اپریل، مئی اور جون کی تمام واجب الادا تنخواہیں، ڈاؤن سائزنگ سے متاثرہ ملازمین کے بقایا جات، گریجویٹی اور دیگر قانونی واجبات فوری ادا کرنے کا پابند بنائیں۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ میڈیا ورکرز کے حقوق کی بات کرنے والی صحافتی تنظیمیں بھی اب عملی کردار ادا کریں۔ ان کا یہ بھی شکوہ ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے صرف یقین دہانیاں دی جاتی ہیں لیکن عملی طور پر اب تک کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھی یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اگر کسی میڈیا ادارے کے مالکان اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہیں اور واجبات ادا نہیں کر سکتے تو انہیں ایسے ادارے چلانے کا جواز بھی عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے ۔خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور آج نیوز کی انتظامیہ کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

مزید پڑھیں
- Advertisment -
Google search engine

مزید پڑھیں